تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 576
تاریخ احمدیت 576 جلد 21 نجم الدین صاحب سے پوچھتے اور حضرت مولوی صاحب سے غلہ کے بارہ میں ذکر فر ماتے۔آپ طغل والا میں ہی تھے کہ طاعون کا شدید حملہ شروع ہو گیا آپ کی چھوٹی ہمشیرہ بھی اس مہلک مرض میں مبتلا ہوگئی دو دن بالکل بول نہ سکی تیسرے دن کچھ ہوش آیا۔اشارہ سے کہا کہ مسیح موعود علیہ السلام ہمارے گھر میں آئے ہیں۔میرے بدن پر پھونک ماری ہے۔آپ قادیان پہنچے اور سارا حال حضرت اقدس کو سنا دیا حضور نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فضل کر دیا گھبرانے کی کوئی بات نہیں چنانچہ ایسا ہی ہوا اور وہ صحت یاب ہوگئی۔حضور نے اس وقت ہدایت فرمائی کہ طغل والا سے ان دنوں میں قادیان نہ آویں اور میں آپ کے لئے اور آپ کے گھر کے لئے دعا کروں گا نیز فرمایا یہ دعا کثرت سے پڑھا کرو۔رب کـــل شـیـنـی خادمك رب فاحفظني وانصرنى وارحمنى استغفار بسم الله هو الكافي۔بسم الله هو الشافي باسم الله اشفنی اور درود شریف۔فرمایا کرتے تھے۔یہ دعا اللہ تعالیٰ نے مجھے انہی دنوں کے 202- لئے سکھائی تھی۔20 1905-06ء میں آپ نے ہجرت کر کے دیار حبیب قادیان میں مستقل سکونت اختیار کر لی اور بیت مبارک کے ساتھ والی دکانیں کرایہ پر لے لیں۔حضور کی خدمت میں عریضیہ بھیج کر راہ نمائی چاہی کہ میں کونسا کاروبار شروع کروں حضور نے جواب تحریر فرمایا کہ :- دنیا کے کام آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں جو کام بھی آپ شروع کریں گے میں اسکے لئے دعا کروں گا اور اللہ تعالیٰ اس میں برکت ڈالے گا۔“ چنانچہ آپ نے پنساری کی دکان کھول لی اور اس کے بعد اور بھی مختلف کام کئے مثلاً کوئلہ اور چونہ بھی فروخت کیا اور حضور کی دعاؤں کی برکت سے کبھی نقصان نہیں اٹھایا بلکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ ہی برکت دی۔بیت مبارک سے متصل دکانوں کے مالک مرزا نظام الدین صاحب تھے اور ماہوار کرایہ فی دکان ڈیڑھ روپیہ تھا قادیان میں سب سے پہلی دکان کریانہ کی جو کسی احمدی نے کھولی وہ آپ کی تھی کچھ سامان آپ لنگر خانہ کے پاس فروخت کر دیتے تھے اور کچھ حضرت مسیح موعود کے پاس اور اس سے آپ کا گزارہ ہو جاتا تھا۔بیت مبارک کے قرب کی وجہ سے آپ کو حضرت اقدس کی بابرکت مجالس سے فیضیاب ہونے اور قبولیت دعا کے کئی نشانات دیکھنے کا موقعہ ملا۔ایک دفعہ کسی نے حضرت مولوی نورالدین صاحب سے شکایت کے رنگ میں کہا کہ بیت الذکر کے قریب دکان نہیں ہونی چاہئے۔آپ نے حضرت مسیح موعودؓ سے ذکر کیا تو حضور نے ارشاد فرمایا آپ جانتے ہیں یہ کون لوگ ہیں؟ یہ اصحاب الصفہ ہیں۔یہ سن کر خوشی کے مارے آپ کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔200