تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 577
تاریخ احمدیت 577 جلد 21 18 نومبر 1910ء کو حضرت خلیفتہ اسیح الا ؤول گھوڑے سے گر گئے اور جیسا کہ خلافت اولیٰ کے حالات میں بتایا جا چکا ہے یہ حادثہ آپ کے مکان کے سامنے رونما ہوا آپ نے دیکھا کہ حضرت خلیفہ ایح کا پاؤں مبارک رکاب میں لٹک گیا ہے۔شیخ صاحب نے بھاگ کر فور الگام پکڑ لی آپ نے گھوڑی کو چھوڑا نہیں وہ آپ کو دھکیل کر آٹھ دس قدم تک لے گئی۔اس دوران حضور کا پاؤں رکاب سے نکل گیا اور آپ کھنگر پر گر پڑے اور بیہوش ہو گئے۔شیخ صاحب نے اپنی اہلیہ کو آواز دی وہ چار پائی اور کپڑا لے آئیں اور حضور چار پائی پر لیٹ گئے۔آپ نے حضور کے سر میں پانی ڈالا مگر خون بند نہ ہوا۔آپ نے اپنی پگڑی سے خون صاف کیا تھوڑی دیر بعد ہوش آئی تو فرمایا کہ خدا کے مامور کی بات پوری ہو گئی آپ نے عرض کیا کہ کونسی۔فرمایا کیا آپ نے اخبار میں نہیں پڑھا کہ حضور نے گھوڑے سے میرے گرنے کی خواب دیکھی تھی۔20 آپ کی اہلیہ نے عرض کیا کہ حضور دودھ لاؤں فرمایا نہیں میں دودھ کا عادی نہیں۔پھر حضور کو چار پائی پر ہی اٹھا کر آپ کے مکان پر آپ کے شاگر د حکیم غلام محمد صاحب امرتسری اور آپ کے بچوں کے خادم غلام محی الدین صاحب اٹھا کر لے گئے۔تیسرے روز حکیم صاحب موصوف آئے اور کہا کہ حضرت خلیفہ اول خون آلود پگڑی منگواتے ہیں۔شیخ رحمت اللہ صاحب ان کے ساتھ حاضر ہو گئے۔فرمایا وہ پگڑی ہمیں دے دو۔شیخ صاحب کے توقف پر حضور نے ارشادفرمایا کہ اچھا اسے دھلا لو اور استعمال کرو لیکن ٹکڑے کر کے اسے تقسیم نہ کرنا پھر ایک نئی پگڑی بھی عنایت فرمائی۔آپ نے حسب ارشاد پہلی پگڑی دھلائی اور دونوں پگڑیاں استعمال کر لیں۔آپ کا حلفیہ بیان ہے کہ ” میں نے خواب دیکھا کہ میں رورہا ہوں اور حضرت خلیفہ اول کے پاس بیٹھا ہوں اور ان سے کہتا ہوں کہ حضور تو جارہے ہیں ہمیں کس کے سپرد کر کے جارہے ہیں۔بیت مبارک میں گویا ظہر کے وقت نمازی جمع ہیں اور بہت سے ابھی آرہے ہیں۔اتنے میں حضرت صاحبزادہ میاں محمود احمد صاحب تشریف لے آئے حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کہ ”میاں اس محراب میں کھڑے ہو جاؤ جب حضرت میاں صاحب کھڑے ہو گئے تو آپ نے اپنا ایک ہاتھ میرے سر پر رکھ کر اور ایک ٹھوڑی کے نیچے رکھ کر منہ ادھر گھما کر فرمایا کہ یہ ہے جس کے سپر د کر چلا ہوں۔میرے بعد یہ تمہارا خلیفہ ہوگا اور آپ نے یہ الفاظ دودفعہ دہرائے۔“ اگلے روز خواب میں دیکھا کہ ایک سڑک پر دومنہ والے سولہ سانپ کھڑے پھنکارتے ہیں۔منظر نہایت ہیبت ناک ہے۔لوگ خوف کے مارے کھڑے ہیں اور راستہ صاف ہونے کے منتظر ہیں میں بھی سڑک پار کرنا چاہتا ہوں مگر سانپوں کی وجہ سے نہیں کر سکتا اتنے میں ایک شخص آیا۔میرے پوچھنے پر بتایا کہ میں فرشتہ ہوں میرا نام رحمت علی ہے اور میں تمہارے لئے ایک حربہ لایا ہوں اس نے گھاس کھودنے والا رمبہ مجھے دیا اور اس کے چلانے کا طریقہ مجھے بتا کر کہا کہ اس طرح چلاؤ کہ یہ سانپ کٹ جائیں چنانچہ میں نے