تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 569
تاریخ احمدیت 569 جلد 21 کرے۔جو نبی اکرم ﷺ کے وجود باجود کی صورت میں ہمیں نصیب ہوئی۔آمین والسلام خاکسار محمد اکرم خان ( نز د جناح ہال ) سرگودھا۔187 سنگ بنیاد دفتر تحر یک وقف جدید حضرت سید نا اصلح الموعود کی جاری فرمودہ عظیم الشان تحریک انجمن احمدیہ وقف جدید کا کام نہایت تیزی سے وسیع سے وسیع تر ہورہا تھا مگر ابھی تک اس کے دفتر کی مستقل عمارت موجود نہیں تھی۔جلسہ سالانہ کے مبارک موقعہ پر 29 دسمبر 1962ء کو اڑھائی بجے بعد دو پہر ( دفتر خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے دفتر سے ملحقہ پلاٹ میں ) اس کے مرکزی دفتر کی عمارت کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب عمل میں آئی جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعد در فقاء کرام، مجلس وقف جدید کے ارکان جلسہ پر تشریف لانے والے امراء صاحبان اضلاع اور دیگر احباب نے کثیر تعداد میں شرکت فرمائی۔تقریب کا آغاز قرآن مجید کی تلاوت سے ہوا جو مولوی نصیر احمد صاحب ناصر مربی سلسلہ احمدیہ سیالکوٹ نے خوش الحانی سے کی اس کے بعد خالد احمدیت مولانا جلال الدین صاحب شمس ناظر اصلاح وارشا دور کن مجلس وقف جدید نے مسجد مبارک قادیان کی ایک اینٹ بنیاد میں رکھی بعد ازاں صحابہ حضرت مسیح موعودؓ میں سے حضرت حاجی محمد فاضل صاحب ربوہ ، حضرت حکیم انوار حسین صاحب خانیوال، حضرت منشی عبدالحق صاحب خوشنویس ربوہ ، حضرت چوہدری فتح دین صاحب، حضرت مولوی محمد عثمان صاحب امیر جماعت احمدیہ ڈیرہ غازیخان اور حضرت صوفی محمد رفیع صاحب امیر جماعت ہائے احمد یہ خیر پور نے بنیادی اینٹیں رکھیں۔مجلس وقف جدید کے مندرجہ ذیل ممبران نے بھی ایک ایک اینٹ رکھی :- حضرت شیخ محمد احمد صاحب مظہر ایڈووکیٹ صدر مجلس وقف جدید۔خالد احمدیت مولانا ابوالعطاء صاحب، مکرم ملک سیف الرحمن صاحب مفتی سلسلہ احمدیہ مکرم مولوی عبدالرحمن صاحب انور، حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب ناظم ارشاد وقف جدید - مولوی ابوالمنیر نور الحق صاحب رکن مجلس وقف جدید - امراء صاحبان علاقائی و اضلاع میں سے مرزا عبدالحق صاحب امیر جماعت ہائے احمد یہ سابق صوبہ پنجاب و بہالپور ،مولوی محمد صاحب امیر جماعت ہائے احمد یہ مشرقی پاکستان، شیخ رحمت اللہ صاحب امیر جماعت کراچی، چوہدری بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ امیر جماعت احمد یہ گجرات نے بھی ایک ایک اینٹ رکھی۔اسی طرح قاضی محمد رفیق صاحب لاہور نے بھی۔یہ سب احباب دعائیں کرتے ہوئے باری باری اینٹیں رکھتے جاتے تھے اور جملہ حاضرین بھی