تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 548
تاریخ احمدیت 548 جلد 21 اس وقت احمدی تحریک کے متعلق میری واقفیت اگر تھی تو محض برائے نام۔۔۔۔۔۔حالات نے زندگی کا رخ بدل دیا۔عملی طور پر پبلک زندگی میں آنے کا موقع ملا۔۔۔۔۔میرے ایک دوست محمد لطیف صاحب کئی برسوں سے مجھے قادیان جانے کی تلقین کرتے آرہے تھے۔میری اپنی بھی وہاں جانے کی دلی خواہش تھی۔سو اس مرتبہ 19 دسمبر 1962ء کو مجھے بھی احمدی جماعت کی سالانہ کانفرنس میں جو قادیان ( ضلع گورداسپور ) میں منعقد ہوئی شرکت کرنے کا موقع ملا۔ایک دیرینہ خواہش پوری ہوگئی:۔مولانا ابوالعطاء صاحب۔مولانا سمیع اللہ صاحب، مولانا بشیر احمد صاحب،اور مولانا شریف احمد صاحب امینی کی تقاریر جو اس دن کے پروگرام میں شامل تھیں۔سنیں۔چونکہ میری واقفیت اب بھی سرسری ہے اس لئے احمدی جماعت کے متعلق فی الحال کچھ مفصل طور پر لکھنا میرے لئے مناسب نہ ہوگا۔لیکن پھر بھی سالانہ کا نفرنس میں شامل ہونے کے بعد اپنے مشاہدے کی بناء پر میں کہ سکتا ہوں کہ اسلام کا پر چار جتنے ٹھوس عمدہ اور مدلل ڈھنگ سے احمدی لوگ کرتے ہیں شاید ہی کوئی کرتا ہو یا کرسکتا ہو۔کم از کم میری نظر سے تو ان کے برابر کوئی جماعت یا فرد واحد نہیں گزرا۔سچ سچ یہ لوگ تلواروں کے سایہ میں اسلام کا پر چار کر رہے ہیں۔ہندوستان تو کیا پاکستان میں بھی کیا کم مظالم ڈھائے گئے ہیں؟ ظلم وستم برداشت کرنے کے باوجود کیا مجال کہ تبلیغ کے کام میں سستی آئے یا ان کے۔۔۔۔قدموں میں لغزش پیدا ہو! میں تو یہ کہے بنا نہیں رہ سکتا کہ اگر کسی نے دھرم پر چار کا ڈھنگ سیکھنا ہو تو احمدیوں سے سیکھے۔کتنا اتحاد ہے ان میں ! کتنی منظم ہے یہ با عمل جماعت !! مولا نا شریف احمد صاحب امینی نے ”قومی یکجہتی اور اس کے قیام کے ذرائع“ کے عنوان پر جو معرکہ انگیز اور پر سوز تقریر کی ہے اس سے بے حد متاثر ہوا۔مولانا موصوف نے اپنی تقریر میں بجھتی قائم کرنے کے لئے دس نکات پر مشتمل پروگرام پیش کیا جن میں سے چند ایک یہ ہیں:۔1۔ہندوستان میں بسنے والے افراد کو بلا لحاظ مذہب وملت وفادار شہری سمجھا جائے۔2۔مذہبی آزادی میں مداخلت نہ کی جائے۔۔ایک مذہب کے ماننے والے دوسرے مذاہب کے پیشواؤں اور بانیوں کا احترام کریں 4۔صحیح یا غلط پرانے واقعات کو دوہرا کر فتنہ وفساد بپا کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔5۔ہر ایک مذہب والے اپنے مذہب کی صرف خوبیاں ہی بیان کریں۔دوسرے مذہب یا مذہبی رہنماؤں پر کیچڑ نہ اچھا لیں۔اگران تجاویز پر ایمان داری سے عمل کیا جائے تو صحیح معنوں میں پچہتی کیوں نہ قائم ہو؟ ضرور ہو سکتی ہے۔