تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 540
تاریخ احمدیت 540 جلد 21 سے یہ توقع تھی کہ انسان کو انسانیت کے آداب سکھائیگا۔مگر خود اس کا دامن بھی خون آلود نظر آتا ہے۔“ (صفحہ 11) اشوک جی“ نے اس سلسلہ میں یہ بھی بیان کیا کہ۔فاضل مصنف کے اپنے الفاظ میں اسلام کے صحیح معنے سلامتی اور امن کا مذہب ہیں ( ملاحظ ہو صفحہ 13 ) اور مذہب در اصل روحانی تبدیلی کا ہی دوسرا نام ہے (ملاحظہ ہوصفحہ 31) جو لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے وہ غلطی پر ہیں۔کیونکہ اسلام کے بانی حضرت محمد (ع ) مذہب کے نام پر کسی قسم کی سینہ زوری کے حق میں نہیں تھے اور نہ انہوں نے مذہب کے نام پر جبر کرنے کی تلقین کی ہے (ملاحظہ ہو صفحہ 41) اس لئے:۔یہ راتیں کب ختم ہوں گی۔اور وہ دن کب آئیں گے جب خدا کی عظمت کو قائم کرنے کے لئے خون کی ہولی نہیں کھیلی جائے گی۔(ملاحظہ ہو صفحہ 303) اپنے اس تبصرہ کے آخر میں سردار شمشیر سنگھ جی اشوک نے لکھا کہ :۔یہ ہے اس کتاب کا مختصر خلاصہ جس سے واضح ہوتا ہے کہ اس کے قابل مصنف مرزا طاہر احمد صاحب نے بہت تحقیق اور محنت سے اسکی تکمیل کی ہے۔اس کتاب کی زبان بہت سلیس اور شستہ ہے۔اس میں چودہ مختلف عنوان ہیں۔طرز بیان بہت دلکش۔الفاظ کی ترکیب اور بندش بہت چست اور درست ہے۔میرے نزدیک ایسی کتاب جس میں مذہبی اتحاد اور رواداری کی پوری پوری جھلک ہے۔ہر لائبریری میں ہونی چاہیئے۔“ -3 خالصہ ہائی سکول پٹیالہ کے ایک معز ز سکھ ایشر سنگھ گیانی نے لکھا۔” میں نے کتاب ”مذہب کے نام پر خون کو بغور پڑھا واقعی اس کے مصنف قابل مستحسن ہیں۔اس کتاب کے مصنف محترم صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب ربوہ نے اس کتاب کو جس محققانہ پیرائے اور خوش اسلوبی و وضاحت کے ساتھ نیز قرآن شریف کی آیات کے حوالے دیکر اپنے موضوع کو واضح کیا ہے اس کی نظیر نہیں ملتی۔واقعی مصنف نے اس کتاب کی تصنیف میں جادو بھر دیا ہے کہ مذہب کے نام پر حقیقی علمبر داروں نے نہیں بلکہ لامذہب ولا علم لوگوں کی طرف سے جسکو حقیقی دین، دھرم یا مذ ہب سے کوئی لگاؤ تک نہیں ہوتا صرف اپنی غرض و مطلب براری کے لئے حقیقی مذہب والوں پر تشدد کئے اور ظلم وستم ڈھائے ہیں۔اور اب بھی یہی وطیرہ اختیار کیا ہوا ہے اس پر اچھی طرح سے روشنی ڈالی ہے۔الغرض یہ معرکتہ الآراء کتاب ایسی ہے جس سے ہر مذہب کے لوگ مستفید ہو سکتے ہیں اور ایسی