تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 45
تاریخ احمدیت 45 جلد 21 مشن اور خاکسار کو با قاعدہ طور پر درس دینے کی توفیق ملی۔ہر شام کو ادا ئیگی نماز کے بعد درس کا یہ نظارہ عجیب لطف دیتا۔جملہ احباب جماعت اپنا اپنا قرآن کریم تھامے ہوئے بیت الذکر کے فرش پر بیٹھے ہوتے اور بیان کردہ مطالب کو غور سے سنتے قرآن پاک کی اعجازی شان سے لطف اندوز ہوتے۔احباب جماعت کے علاوہ متعدد مرتبہ غیر مسلم حضرات بھی شریک ہوتے رہے جن کو سوالات کی بھی اجازت دی جاتی رہی رمضان المبارک کی ستائیسویں تاریخ کو چار احباب جماعت نے رات بیت الذکر میں ہی بسر کی اور تلاوت قرآن کریم دعا اور نوافل میں وقت گزارا۔ایک صاحب اعتکاف بیٹھے جنہیں سب سہولتیں مہیا کی گئیں۔عید کا دن ہمارے لئے بہت ہی مصروف دن تھا احباب کی کثرت کے باعث ہر طرف گہما گہمی تھی۔لوگ وقت مقررہ سے کافی پہلے آنا شروع ہو گئے تھے۔نماز کے شروع ہونے تک بیت الذکر، میٹنگ روم اور انٹرنس ہال لوگوں سے بھر چکے تھے۔یہی وجہ تھی کہ ان دونوں عیدوں کے موقعہ پر لاؤڈ سپیکر بھی استعمال کرنا پڑا۔بیت الذکر کے کمرہ میں نمازیوں کے لئے مزید گنجائش نہ پاکر وسع مكانك بار بار زبان پر جاری ہو جاتا تھا۔حاضرین میں علاوہ دیگر غیر مسلم حاضرین کے ہالینڈ کے ایوان بالا کے ایک رکن۔عالمی عدالت انصاف کے ایک حج ، پاکستان ، انڈونیشیا، متحدہ جمہوریہ عرب اور ترکی وغیرہ مسلم سفارتخانوں کے متعدد افسران موجود تھے۔نیز متعدد مسلمان ممالک، پاکستان، بھارت، افغانستان،ایران ،انڈونیشیا، مصر، شام، سوڈان اور یورپین ملکوں وغیرہ کے طلبہ وغیرہ بھی بھاری تعداد میں شامل ہوئے۔غیر مسلم حضرات کے لئے بیٹھنے کا الگ طور پر بھی انتظام موجود تھا۔جہاں وہ بذریعہ لاؤڈ سپیکر آسانی کے ساتھ خطبہ عید سن سکتے تھے۔ڈچ اصحاب میں سے کئی ہالینڈ کے مختلف دور دراز کے شہروں سے موٹروں اور موٹر سائیکلوں پر شمولیت کے لئے آئے۔ملاقاتوں کا سلسلہ خدا تعالیٰ کے فضل سے وسیع رہا۔جرمن احباب کے علاوہ اسلامی ممالک کے کئی دوست بیت الذکر میں تشریف لائے۔ان میں سے خاص طور پر قابل ذکر مکہ مکرمہ کے مشہور اخبار الندوہ کے چیف ایڈیٹر صاحب محمد جمال اور ایک دوسرے اخبار کے ڈپٹی چیف ایڈیٹر حامد حسین صاحب ہیں جو تشریف لائے۔ان کے ہمراہ ہمبرگ کے ایک اخبار کا نمائندہ بھی تھا۔جس نے دوسرے روز اس ملاقات کا تذکرہ اور ہمارے فوٹو شائع کئے۔اسی طرح اسرائیل کے دو اخبار نویس آئے ان میں سے ایک صاحب مسلمان ہیں ان کا نام رشید حسین ہے اور آپ تل ابیب کے اخبار ”الفجر“ کے ادبی ایڈیٹر ہیں اور دوسرے