تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 46 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 46

تاریخ احمدیت 46 جلد 21 صاحب اطالعہ متصور عیسائی تھے۔انہیں عربی اور انگریزی لٹریچر مطالعہ کے لئے دیا گیا۔برادرم مرز الطف الرحمن صاحب نائب امام بیت الذکر ہمبرگ نے ایک جرمن ٹریکٹ جو اسلام کی حقیقت کے زیر عنوان چھاپا گیا تھا تین ہزار کی تعداد میں تقسیم کیا۔اسی طرح عرصہ زیر رپورٹ میں مشن کے تمام کاموں میں پوری طرح مددفرماتے رہے اسی دوران آپ کا تبادلہ ہوا اور آپ 17 اکتوبر کولیگوس کے لئے روانہ ہوئے۔ہمارے جرمن نو مسلم بھائی ناصر نکولسکی پاکستان اور بھارت کے ایک لمبے دورہ کے بعد واپس تشریف لائے۔آپ کے گزشتہ جلسہ سالانہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز، بزرگان سلسلہ اور دیگر اہم تقاریب کی سلائیڈ ز قادیان کے مقامات مقدسہ کی سلائیڈز اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی جلسہ سالانہ کی تقریر کے ریکارڈ نے خاص طور پر ہمارے ایمان کو تازہ کیا۔مشن ہاؤس میں ایک جلسہ عام منعقد ہوا جس میں ہالینڈ کے ممبر پارلیمنٹ (Dr۔IN HET YELD) نے حاضرین سے مندرجہ بالا عنوان پر خطاب کیا۔آپ نے اپنی تقریر کے دوران اس بات پر زور دیا کہ انسانوں کی رہنمائی کے لئے انسانی کانشنس کافی ہے۔خدا تعالٰی کی رہنمائی اور الہامی روشنی بے معنے چیز ہے۔جس کا کوئی وجود نہیں۔مکرم جناب حافظ صاحب نے چند سوالات کے ذریعہ حاضرین پر واضح کیا کہ صرف انسانی عقل غلطی کرتا ہدایت انسانی کے لئے کافی نہیں ہوسکتی۔کیونکہ تجربہ بتلاتا ہے کہ انسان کا علم کامل نہیں وہ غلطی پر غلہ ہے۔اسے تو پوری طرح اپنی حقیقت کا بھی علم نہیں۔چہ جائیکہ وہ اپنی عقل اور سمجھ پر بھروسہ رکھتے ہوئے اپنے انجام اور مقصد کو پانے کے متعلق صحیح رہنمائی کر سکے پھر اگر انسان کی اپنی عقل ہی صحت کا معیار ہے تو ایک انسان اگر بعض اوقات دیانتداری سے ایک کام کو درست سمجھتے ہوئے سرانجام دیتا ہے۔مگر انجام کار وہ غلطی ثابت ہوتی ہے تو اس پر گرفت کا کسی اور قانون کوحق نہیں اس صورت میں اس شخص کی غلطی کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی۔اور امن کس طرح بحال رہے گا وغیرہ وغیرہ۔عرصہ زیر رپورٹ میں ہماری ہفتہ وار مجالس بھی با قاعدگی کے ساتھ منعقد ہوئیں۔جن میں ممبران کے علاوہ متعدد بار دیگر اصحاب نے بھی شرکت کی۔اور سوالات کے ذریعہ اسلام کے متعلق معلومات حاصل کی۔ان مجالس میں خاص طور پر احمدی دوستوں کی تعلیم و تربیت کا خیال رکھا گیا۔اور انہیں قرآن مجید ناظرہ، نماز و آذان وغیرہ اور دیگر مسائل کی طرف توجہ دلائی جاتی رہی اور مشن کے پروگراموں سے متعلقہ امور میں مشورہ ہوتا رہا۔