تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 510 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 510

تاریخ احمدیت 510 جلد 21 انہیں مشورہ بھی دیا تھا۔ان غیر معمولی اقدامات میں یہ بھی شامل تھا کہ اسمبلی کی کارروائی اگست سے شروع کر دی جائے۔ایسا کرنے سے اقوام متحدہ سے منسلکہ تمام لوگوں اور ان کے بچوں کی چھٹیاں برباد ہو کر رہ جائیں کیونکہ ان کو اس پر مجبور کیا جاتا کہ وہ ایسے دنوں میں نیو یارک واپس پہنچ جائیں جبکہ شدید گرمی اور مرطوب آب و ہوا کے دن ہوتے ہیں۔وقت مقررہ میں کام ختم کرنا اس لئے ممکن ہو گیا کہ ڈسپلن کا خیال رکھا گیا اور اس کو نافذ کرنے کی جرات موجود تھی۔اس پر خاصا شور شرابا ہوا اور اسکی وجہ خاص طور پر یہ تھی کہ چودھری ظفر اللہ اپنا اجلاس اور دیگر کام عین وقت مقررہ پر شروع کر دیتے تھے چاہے اس وقت کو رم ہوتا یا نہ ہوتا۔اس دوائی کی چند خوراکوں کے بعد ہی نمائندگان وقت مقررہ پر اپنی نشستوں پر نظر آنے لگے۔جب مکمل اجلاسوں کی کارروائی اس لئے ملتوی کرنی پڑی کہ نمائندگان تیار نہ ہوتے تھے تو چودھری ظفر اللہ نے ان کو صاف صاف کہ دیا کہ اگر وہ تیار نہ ہو سکیں تو انہیں چاہیے کہ وہ اپنے استقبالیے اور ڈنر ترک کر دیں اور اس کی بجائے اپنا ہوم ورک مکمل کریں بصورت دیگر انہیں جنوری کے بعد آنا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ وہ بحث کو جمعہ 21 تاریخ شام چھ بجے سے زیادہ طویل نہیں ہونے دینگے۔(اگر ہم نے ہفتہ اور سوموار کو بھی کام کیا تو سارے سیکریٹریٹ کی کرسمس کی چھٹیاں متاثر ہو جائیں گی ) اتفاق سے یہ بھی ہوا کہ ایسا کرنے سے اور قواعد پر پوری طرح عمل کرنے سے چودھری ظفر اللہ نے اقوام متحدہ کی خاصی رقم بچالی۔پانچویں کمیٹی کوسیکر یٹریٹ نے جو تخمینہ فراہم کیا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ اسمبلی کے ایک ہفتے کے مکمل اجلاس اور صرف ایک کمیٹی کی میٹنگ پر پورے بیالیس ہزار ڈالر خرچ ہو جاتے ہیں۔گزشتہ سالوں میں اسمبلی کے دوسرے حصے میں جسمیں صرف چوتھی کمیٹی کا اجلاس اور مکمل اجلاس منعقد ہوئے اور جو سات ہفتے جاری رہے 4لاکھ ڈالرخرچ ہوئے۔رقم میں یہ کفایت جو کہ چودھری ظفر اللہ کے اپنی نظم و ضبط کا ایک نتیجہ تھا۔اس معاملے کے اہم ترین پہلوؤں میں سے ایک تھا اگر چہ اس بات کی طرف کم توجہ ہوئی ہے۔اس نمائندے کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں اس اسمبلی کے بارے میں چوھدری ظفر اللہ نے کہا کہ مجھے تمام نمائندگان کی طرف سے جو تعاون ملا ہے اس پر میں ان سب کا بے حد مشکور ہوں انہوں نے مزید کہا کہ ”مجھے ایک بھی رولنگ نہیں دینی پڑی۔یقینی طور پر یہ ایک زبر دست بات ہے۔اس اسمبلی کا کوئی ایک بھی صدر ایسا نہیں گزرا جس کو آئے دن رولنگ نہ دینا پڑتی ہوں اور بعض اوقات ان رولنگ کو چیلنج بھی کر دیا جاتا تھا۔دیگر صدر صاحبان کے وقت میں میں نے یہ بھی دیکھا کہ :-