تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 463 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 463

تاریخ احمدیت 463 جلد 21 ٹوکیو میں گروپ کے قیام کے بعد جب حضرت میاں صاحب کو گروپ کے ممبران کی چند تصویریں ارسال کی گئیں تو آپ نے جاپان اور جاپانی قوم اور یہاں پر ہمارے ایک مضبوط مشن کے قیام کے متعلق مندرجہ ذیل مکتوب گرامی تحریر فرمایا :- بسم م الله الرحمن الرحيم عزیزم مکرم۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ نحمده ونصلى على رسوله الكريم آپ کا خط محررہ 1962-08-26 موصول ہوا جس کے ساتھ ایک عدد فوٹو بھی تھا چونکہ آپ نے لکھا ہے کہ آپ اس خط کی نقل وکالت تبشیر کو بھی بھجوار ہے ہیں اس لیے میری طرف سے انہیں لکھنے کی ضرورت نہیں اللہ تعالیٰ آپ کے اخلاص میں برکت دے اور آپ کی کوششوں میں کامیابی کا راستہ کھو لے جاپان ایک بڑا اہم ملک ہے اور آبادی کے لحاظ سے بھی بہت بڑا ہے اور اس کے باشندوں میں ترقی کی غیر معمولی صلاحیت ہے خدا کرے کہ جاپان کے نیک فطرت لوگ اسلام اور احمدیت کی طرف توجہ کرنے لگ جائیں اور یہاں ہمارا ایک مضبوط مشن قائم ہو جائے۔جو انشاء اللہ اپنے وقت پر ضرور ہوگا کیونکہ اسلام اور احمدیت کا پیغام ساری دنیا کے لئے ہے اس لئے ناممکن ہے کہ جاپان میں اسے کامیابی حاصل نہ ہو ظاہری کوششوں کے علاوہ دعاؤں سے بھی بہت کام لیں۔والسلام مرزا بشیر احمد 1962-09-01 گروپ کے قیام کی تقریب پر دوسرا گرانقدر پیغام حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے ارسال فرمایا جو انگریزی زبان میں تھا۔ذیل میں اس بصیرت افروز پیغام کا اردو تر جمہ دیا جاتا ہے:۔میں آپ کی خدمت میں نہایت ادب اور خلوص سے سلام پیش کرتا ہوں۔اب جاپانی معاشرہ کے احیاء اور نشاۃ ثانیہ کا زمانہ ہے۔جس میں آپ کی حیثیت اسلام کے داعی کی ہی ہے۔یہ معاشرہ دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاریوں کا شکار رہ چکا ہے اور اب نئے سرے سے علمی جستجو میں کوشاں اور مادی ارتقا کے راستے پرنئی امنگوں اور نئے ولولوں کے ساتھ گامزن ہے۔ترقی ایک متقابل اور اضافی اصطلاح ہے۔سائنسی اور ٹیکنیکی ترقی کا موازنہ اخلاقی اور روحانی اقدار کی نشو و نما کے ساتھ بخوبی کیا جاسکتا ہے۔نوع انسانی یقینا ترقی کے نئے دور کا آغاز کر چکی ہے۔اس دور کی سب سے امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ دنیا سائنسی علوم و فنون کی اتھاہ گہرائیوں تک پہنچنے کے لئے بڑی تیزی