تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 457
تاریخ احمدیت 457 جلد 21 مجنونانہ شوق رہا ہے تو وہ غیر ممالک کی سیاحت کا تھا۔حالات ہی ایسے پیدا ہوتے رہے کہ اس وقت تک یہ تمنا پوری نہ ہوسکی۔میرے میاں مرحوم نے دو برس پیشتر اپنا پاسپورٹ بھی بنوالیا تھا اور میری یہ خواہش پوری کرنے کی ان کو بے حد تڑپ تھی ہمیشہ کہتے تھے۔” بیگم میں نے تمہارا یہ قرض دینا ہے جو انشاء اللہ تعالی ضرور ادا کروں گا۔انہوں نے اپنا وعدہ اپنے بعد بھی پورا کر دکھایا۔خیر یہ تو ضمنا بات آگئی۔میرا یہ سفرا اتفاق اس لئے بن گیا کہ اب یہ برسوں کی پالی ہوئی آرزو بالکل مردہ ہو چکی تھی۔خواہش تو ایک طرف مجھے اس سفر سے ایک تنفر سا پیدا ہو چکا تھا۔مگر اکثر اوقات انسان کی آرزوتب پوری ہوتی ہے جب اس کی رغبت اور اہمیت فنا ہو چکتی ہے۔میرے ساتھ تو اکثر ایسا ہوا ہے۔بہر حال خدا جانے کس طرح میری لڑکی عزیزہ طاہرہ صدیقہ نے تین دن کے اندر زور دے کر مجھے تیار کر دیا۔پھر خدا تعالیٰ نے جلد جلد ایسے سامان پیدا کر دئیے کہ خلاف امیدا پینج وغیرہ بھی مل گیا اور میں 25 جولائی کو یہاں سے لنڈن کے لئے روانہ ہوگئی۔میرے سفر یورپ کا سب سے زیادہ خوشگوار اور مبارک پہلو میری بیت الذکر زیورچ کے سنگ بنیاد کی تقریب میں شمولیت تھی۔میں تو اب سمجھتی ہوں کہ میرا ادھر جانا بھی اسی تقدیر کے ماتحت تھا۔میرے تو وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ بیٹھے بٹھائے یہ سعادت میرے حصہ میں آ جائے گی۔ایک روز اچانک مکرمی مشتاق احمد صاحب باجوہ کا تار میرے نام آیا جس میں میری آمد پر خوش آمدید کہا تھا اور زیورچ جا کر بیت الذکر کا سنگ بنیا د اپنے ہاتھ سے رکھنے کی فرمائش کی تھی۔پہلے تو میں بوجہ اپنی فطرتی جھجھک کے انکار کرنے لگی تھی مگر میرے دل نے ملامت کی۔آخر میں نے مان لیا۔میں نے یہی سوچا کہ یہ سب کچھ تصرف غیبی کے ماتحت ہو رہا ہے۔میرا یہاں بلا ارادہ اچانک آجانا اور مکرم باجوہ صاحب کے دل میں الہی تحریک سے میرا خیال پیدا ہونا یہ سب تقدیری امور ہیں۔میں 24 تاریخ کو زیورچ پہنچ گئی 25 تاریخ کو صبح 10 بجے یہ تقریب عمل میں آئی تھی جو بفضل تعالیٰ بہت شاندار طریقہ سے انجام پذیر ہوئی۔متعدد پریس والے اور بہت سے مقامی غیر مسلم باشندے علاوہ اپنی جماعت کے موجود تھے۔الحمد للہ کہ اللہ تعالیٰ نے میری سیر و سیاحت کو بھی ایک مذہبی رنگ دے دیا۔خدا کی دین کا موسیٰ سے پوچھئے احوال کہ آگ لینے کو جائیں پیغمبری مل جائے یہ تو میرے سفر کا اہم ترین حصہ تھا۔اس کے علاوہ میں ہالینڈ گئی۔جرمنی گئی۔کوپن ہیگن گئی۔ماشاء اللہ سب جگہ اپنے مشن تھے۔ہر جگہ میرا قیام اپنے مشن ہاؤس میں ہی رہا۔جہاں تک ایک عورت کی نگاہ دیکھ سکتی ہے میں نے تو سب لوگوں کو اچھا پایا خصوصیت سے میں آپ بہنوں کو اپنے جرمنی کے مشن کے حالات