تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 339
تاریخ احمدیت 339 ”ہمارے نہایت ہی پیارے۔درویش صفت۔سلسلہ عالیہ احمدیہ کے خادم اور خدا اور رسول کے عاشق حضرت منشی نور محمد صاحب ( اللہ ان سے راضی ہو ) محترم حضرت فتح محمد صاحب کہروڑ پکا کے سب سے بڑے صاحبزادے اور ہمارے چا اور حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے رفقاء میں سے تھے۔مرحوم نے جب حضرت بانی سلسلہ احمدیہ (اللہ کی آپ پر بے پایاں رحمتیں ہوں ) کا تذکرہ سنا اور آپ کی کتب واشتہارات پڑھے تو بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہو گئے۔جس کی وجہ سے آپ کو بہت مصائب برداشت کرنے پڑے۔کچھ عرصہ بعد گلگت تشریف لے گئے اور وہاں سرکاری ملازمت کر لی۔اور قادیان آنے جانے لگے۔یہ قدرت ثانیہ کے مظہر اول کا زمانہ تھا۔ایک دفعہ حضور سے دست بستہ عرض کیا: ”حضور میرا دل دنیا کی طرف نہیں لگتا بلکہ دین کی خدمت کرنے کی تڑپ ہے۔لِلہ اجازت دیں تو قادیان حاضر ہو کر دین کی خدمت بجالاؤں“۔چنانچہ سیدنا حضرت خلیفہ نورالدین صاحب (اللہ آپ سے راضی ہو ) نے اجازت مرحمت فرمائی اور آپ کا تقرر بطور ہیڈ کلرک صدر انجمن احمد یہ قادیان ہو گیا۔اور قیام پاکستان تک سلسلہ کی خدمت بجالاتے رہے اور صبر وشکر کا مظاہرہ کیا۔اور اس زمانہ میں قلیل تنخواہ کے باوجود تنگی ترشی سے گزر اوقات کرتے رہے اور سلسلہ عالیہ احمدیہ کی خدمت پر فخر کرتے رہے۔جب آپ گلگت گئے تھے وہاں آپ کے ساتھی حضرت خان بہادر غلام محمد خان صاحب تھے وہ ترقی کرتے کرتے بڑے اعلیٰ عہدہ پر فائز ہو گئے تھے اور ان کو خان بہادر کا خطاب بھی سرکار کی طرف سے ملا تھا۔لیکن آپ سلسلہ احمدیہ کی خدمت بجالانے کو زیادہ افضل سمجھتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ دنیا کے اعلیٰ عہدہ سے میرے پیارے اور مقدس امام کی غلامی اور سلسلہ احمدیہ کی خدمت ہزاروں درجہ بہتر ہے۔حضرت میاں محمد ابراہیم صاحب آف خود پور مانگا ضلع لاہور : دو ولادت 1870 ء۔دستی بیعت 1902 ء۔وفات 9 ستمبر 1961ء آپ کے فرزند جناب نوراحمد صاحب عابد دارالصدر شمالی ربوہ تحریر فرماتے ہیں :۔والد صاحب اپنے باپ کے واحد فرزند تھے اور تین بہنوں کے بھائی تھے اور بتایا کرتے تھے کہ گزشتہ چھ سات نسلوں سے ان کے آباء واجداد میں صرف ایک ہی بیٹا پیدا جلد 21