تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 338 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 338

تاریخ احمدیت 338 جلد 21 اولاد امرتسر کا واقعہ ہے کہ ایک دفعہ یہاں پر طاعون بہت زوروں پر تھی۔میں ایک دن سکول سے گھر آیا تو میری اہلیہ صاحبہ دروازہ پر کھڑی تھی۔میں نے دریافت کیا کیا بات ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے اندر چو ہے مرے پڑے ہیں اور گھبراہٹ کا اظہار کیا۔میں نے بڑے یقین سے کہا کہ فکر نہ کرو ہماری جماعت طاعون سے محفوظ رہے گی اور کوئی اندیشہ نہیں۔اس کے بعد میں نے جھاڑو دے کر مکان کو صاف کر دیا۔دوسرے دن پھر ایسا ہی واقعہ ہوا اور چوہوں کے ساتھ کیڑے بھی بہت تھے میں نے پھر ان کو صاف کر دیا اور اپنی اہلیہ کو تسلی دی کہ کوئی فکر نہیں ہماری جماعت اس سے محفوظ رہے گی۔تیسرے چوتھے دن کے بعد رات کے بارہ بجے مجھے میری اہلیہ نے کہا کہ مجھے تو گلٹی نظر آئی ہے۔میں نے بڑی تسلی اور یقین سے کہا کہ گھبرائیں نہیں صبح ہی حضرت صاحب کی خدمت میں دعا کے لئے لکھ دوں گا۔چنانچہ میں نے صبح ہی خط لکھ دیا اور میرا خیال ہے کہ وہ خط ابھی قادیان نہیں پہنچا ہوگا کہ وہ گلی نا پید ہوگئی اور میری اہلیہ بالکل تندرست ہوگئی۔اس طرح پھر دوسرے یا تیسرے دن میرے لڑکے عبد الکریم کو جو ایک سال کا ہو گا اسے گلٹی نظر آئی میں نے پھر حضور کی خدمت میں دعا کے لئے ایک خط لکھ دیا اور گھر والوں کو بہت تسلی دی۔چنانچہ وہ گلٹی بھی خود بخود نا پید ہوگئی۔اس وقت پلیگ کا اس قدرز ور تھا کہ روزانہ دواڑ ھائی صد آدمی اس بیماری سے مرتا تھا اور اس شرح موت کا ذکر کمیٹی کی طرف سے روزانہ ہوتا تھا۔1 - عبدالرحمان صاحب 2 - عبد الکریم صاحب 3۔شریف احمد صاحب وڑائچ۔پریذیڈنٹ ہاؤسنگ سوسائٹی کراچی 4۔شاہ محمد صاحب خوشنویس مرحوم 5 - مشتاق احمد صاحب شائق ( سابق انچارج شعبہ شماریات ربوہ ) 80 حضرت منشی نورمحمد صاحب آف قادیان لائبریرین سنڈیمن لائبریری کوئٹہ: وفات 24 اگست 1961ء جناب محمود احمد صاحب سنوری ( ابن حضرت مولوی قدرت اللہ صاحب سنوری ) تحریر فرماتے ہیں:۔