تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 331 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 331

تاریخ احمدیت 331 پر انبالہ شہر کی جامع مسجد کا امام الصلوۃ اور ہیڈ ٹیچر مقرر کر دیا گیا۔اور اغلباً 1880ء سے 1900 ء تک آپ انبالہ میں مقیم رہے۔آپ نے جوانی میں کئی قسم کی چلہ کشی اور روحانی ریاضتیں کیں ہمیشہ ظاہری اور باطنی اور پاکیزگی کا دھیان رکھتے تھے۔اغلباً ہمیشہ با وضو رہنے کی کوشش فرماتے تھے۔نماز صبح کے بعد تلاوت قرآن پاک اور ادائیگی نوافل ساری عمر عمل رہا۔نہایت درجہ صیح اور خوش الحانی سے تلاوت کرتے اور اپنی اولا د اور اولاد کی اولاد میں سے جس کسی کو تھوڑا بہت قرآن مجید پڑھا یا وہ سب آج تک صحیح ترین قراءت و تلاوت پر قائم ہیں۔گو آپ حافظ قرآن مجید مشہور نہیں تھے لیکن میرے ذاتی علم اور قیاس کی بناء پر آپ حافظ قرآن حکیم تھے اور کسی بھی حافظ کی تلاوت کی تصحیح کر سکتے تھے۔چونکہ انبالہ سے اپنے والدین کی ملاقات کے لئے موضع بہادر نزد گورداسپور آتے رہتے تھے لہذا انہیں دنوں میں آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھنے اور ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔اور حضور کو امام مہدی اور مسیح موعود یقین جانتے ہوئے بذریعہ خط و کتابت اور پھر بالمشافہ حضور کی بیعت کر لی۔حضرت والد صاحب کی تبلیغ پر آپ کے والدین اور دیگر رشتہ دار بھی احمدیت سے منسلک ہوئے۔مثلا آپ کے چھوٹے بھائی میاں سلطان احمد ، آپ کے برادر نسبتی حکیم رحمت اللہ صاحب وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔جب ہمارے والد بزرگوار احمدیت کے سبب انبالہ شہر کی امامت و وعظ اور افتاء کا مسند چھوڑ کر موضع بہادر تحصیل گورداسپور واپس آرہے تھے تو بہت سے مریدوں، دوستوں اور بہی خواہوں نے بڑی رقت خیز حالت اور آہ و بکاء اور دعاؤں سے آپ کو الوداع کہا۔کچھ دنوں تک اپنے والدین کے پاس مقیم رہے اور لاہور کے ایک رئیس خان بہادر میاں محمد سزا وار صاحب جو نہ صرف آپ کے خالو تھے بلکہ آپ کی نیکی اور اہلیت کے معترف تھے، نے آپ کو اپنا مختار عام مقرر کرنے پر حضرت والد صاحب موصوف موضع نواں پنڈ بھمہ اور ڈیال میں مقیم ہو گئے۔یہاں ایک مسجد بنوائی اور نگرانی اور اصلاح اراضی کے علاوہ عام اور ضرورتمند مسلمان ہمسایوں کے لئے پرائمری سکول قائم کروایا۔خود بھی قرآن مجید اور احادیث شریفہ کا درس شروع کر دیا۔۔۔۔حضرت والد صاحب نے ہمارے دو بڑے بھائیوں کو جنگ عظیم اول کے زمانہ میں ہی تعلیم کے لئے قادیان دارالامان بھیجوا دیا تھا۔پھر جنگ کے خاتمہ کے ساتھ ہی تمام برادران کو اور جلد 21