تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 332
تاریخ احمدیت 332 مجھے حضرت والدہ صاحبہ محترمہ کے ساتھ قادیان بھجوا کر مختلف سکولوں میں داخل کروا دیا۔اور 1919ء میں دارالرحمت میں اپنا ذاتی مکان تعمیر کروایا۔یہ اس محلہ کا دوسرا اور تیرہ (13) مشتمل مکان تھا۔یہاں تمام پڑوسیوں کے ساتھ ہمارے تعلقات بہت اچھے رہے خصوصاً حضرت میر محمد اسحاق صاحب اور ان کے محترم والدین، حضرت مرزا بشیر احمد کمرہ ہے صاحب، حضرت مولوی شیر علی صاحب ، حضرت مولوی عبدالرحمن صاحب جٹ۔حضرت والد صاحب نے اپنی ملازمت لاہور 1935 ء سے چھوڑ کر اپنی ملکیت دومربعہ زرعی زمین کی آبادی کی طرف توجہ دی۔یہ قطعات وہاڑی اور کمالیہ میں تھے اور دونوں جگہوں پر مساجد اور تبلیغ و وعظ کا سلسلہ جاری رکھا۔ساری عمر کامل پر ہیز گاری، ورع اور اتباع سنت نبوی پر کار بند ر ہے۔قرآن کریم کے عاشق صادق تھے۔آپ سے بہت سی کرامات اور قبولیت دعاء کے واقعات منسوب کئے جاتے ہیں۔۔۔۔حضرت والد صاحب اپنی زندگی کے آخری سالوں میں زیادہ تر ربوہ شریف میں مقیم رہے اور یہیں 3 مئی 1961 ء کو واصل حق تعالیٰ ہوئے اور وصیت کے مطابق مقبرہ بہشتی میں مدفون ہیں۔حضرت میاں محمد یوسف صاحب اپیل نویس بگٹ گنج مردان ( سرحد ): 59 جلد 21 ولادت اندازاً1861 ء۔بیعت 1901 ء۔وفات 6 مئی 1961 ء بعمر قریباً 100 سال اصل وطن مدضلع امرتسر - حضرت بابو شاہدین صاحب اسٹیشن ماسٹر ( ساکن سا ہو وال تحصیل ڈسکہ ضلع سیالکوٹ ) کے ذریعہ احمدی ہوئے اور پھر اپنے بھائیوں اور کئی اور افراد کو حمدیت میں لانے کا موجب بنے۔اکتوبر 1902 ء کے تاریخی مباحثہ مذ کے محرک آپ ہی تھے۔ایک لمبے عرصہ تک امیر جماعت احمدیہ مردان کے فرائض انجام دیتے رہے۔بہت خاموش طبع اور مخلص بزرگ تھے اور شعر گوئی کا پاکیزہ ذوق رکھتے تھے۔مردان میں ہی دفن کئے گئے۔حضرت چوہدری غلام محمد صاحب بی اے سابق مینیجر نصرت گرلز ہائی سکول قادیان ): ولادت اکتوبر 1877ء۔51 بیعت 19 دسمبر 1905 ء۔62 وفات 7 اگست 1961 ء۔88 موضع ڈھئی متصل کو ٹلی لوہاراں شرقی ضلع سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔1901 ء میں میٹرک اور