تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 326
تاریخ احمدیت 326 لئے عرض کیا اور چند سکے ( یعنی روپے ) حضور کو پیش کئے تو حضور میری والدہ کو فرمانے لگے ” کیا آپ کے میاں ٹھیکیداری کرتے ہیں والدہ صاحبہ نے عرض کیا کہ نہیں حضور بزازی کا کام کرتے ہیں۔پھر فرمایا ٹھیکیداری اور پھر تیسری دفعہ باوجود کہنے کے کہ ”بزازی فرمایا ٹھیکیداری۔والدہ صاحبہ فرماتی تھی کہ میں سمجھی کہ شاید آپ نے سنا نہیں اور بات ختم ہوگئی اور والدہ صاحبہ اور والد صاحب واپس آگئے۔میرے نانا صوفی محمد دین صاحب بھی بزازی کا کام ہندوستان میں جا کر کرتے۔انہوں نے میرے والد صاحب کو کہا کہ میرے والد ماموں کے ساتھ نہ جائیں اور میرے نانا کے ساتھ جائیں اور منافع آدھا دے دیا کریں گے لہذا میرے والد صاحب نے ماموں کو جواب دے دیا لیکن میرے نانا صاحب کو کوئی اور آدمی تھوڑے منافع پرپل گیا اور وہ میرے والد صاحب کو چھوڑ کر چلے گئے۔والد صاحب فرماتے تھے میں پریشانی کے عالم میں بازار سے گزر رہا تھا ایک ہند ولالہ بکھل نے پوچھا کہ " اولر کے سب کپڑا بیچنے ہندوستان چلے گئے ہیں تو کیوں نہیں گیا ؟“ والد صاحب فرماتے تھے ساری بات لالہ کو بتا دی اس نے ) کھاتہ پر دستخط کروائے اور 1500 پندرہ صد رو پیر دیا اور کہا تم بھی کام کرو۔فرماتے تھے گھر آکر میں نے کچھ گندم والدین کو اور کچھ والدہ کو دی اور خود تھیم پور کے لئے عازم سفر ہو گیا۔تا کہ جا کر کپڑالے کر کام کروں (ھیم پور، یو پی ہندوستان کا ایک شہر ہے )۔جس ہند وسیٹھ کی دکان سے کپڑا لیا کرتے تھے اس کے پاس پہنچا اور کہا کہ کپڑا دیں تو سیٹھ نے کہا ” کیوں رقم بر باد کرتے ہو لوگ کپڑا بیچ کر واپس جا رہے ہیں فرماتے تھے کہ میں وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا اور بہت پریشان تھا کہ کیا بنے گا۔ایک سرائے تھی رات کو میں وہاں چلا گیا (پرانے زمانے کا ہوٹل ) صبح اٹھا تو وہاں ایک اور آدمی نے ( جو پنجاب کا رہنے والا تھا پوچھا کہ اتنے پریشان کیوں لگتے ہو۔فرماتے تھے کہ اس کو بھی میں نے ساری بات بتا دی۔کہنے لگا جاؤ نا گدھ متھرا ریلوے بن رہی ہے وہاں کام چل جائے گا۔فرماتے تھے ڈوبتے کو تنکے کا سہارا۔میں نا گدھ منتھر دوسرے دن پہنچ گیا۔فرماتے تھے میں کھڑا دیکھ رہا تھا اور ہزاروں مزدور کام کر رہے تھے کہ سامنے سے ایک انگریز گھوڑے پر میرے پاس آ کر رک گیا اور کہنے لگا کام کرو گے ( بعد میں پتا چلا کہ وہ جلد 21