تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 23 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 23

تاریخ احمدیت 23 جلد 21 مخلص نو مسلم بھائی مسٹر عبدالسلام میڈسن ہیں۔جنہیں خدا تعالیٰ نے تبلیغ اسلام کا خاص جوش بخشا ہے۔اپنے فارغ اوقات میں وہ نہایت تندہی سے تبلیغ حق میں مصروف رہتے ہیں۔قرآن کریم کا ڈینش زبان میں ترجمہ کرنے کی سعادت بھی انہیں کو نصیب ہو رہی ہے۔اور خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے تقاریر وذاتی ملاقاتوں کے ذریعہ بھی وہ خدمت اسلام بجالا رہے ہیں۔آپ کو یہاں کے UNITERIEN CHURCH نے تقریر کی دعوت دی۔اس کا موضوع یہ تجویز ہوا کہ ”میں نے اسلام کو کیوں قبول کیا“۔یہ لوگ حضرت مسیح کو نہ تو خدا تسلیم کرتے ہیں اور نہ کفارہ پر ایمان رکھتے ہیں۔برادرم میڈسن نے انہیں بتایا کہ تثلیث کفارہ اور ابنیت مسیح کے عقائد نے انہیں عیسائیت سے متنفر کیا اور اسلام کی دکش تعلیمات کا اقرار ہر سلیم فطرت کرنے پر مجبور ہے۔خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ تقریر بہت توجہ سے سنی گئی اور کئی ایک غلط فہمیوں کو دور کرنے کا موجب بنی۔سکنڈے نیویا: 20 جناب مولوی کمال یوسف صاحب بانی سکنڈے نیویا مشن کے قلم سے ایک مطبوعہ رپورٹ اگست 1960 ء درج ذیل کی جاتی ہے جس سے مشن کی سالانہ دینی خدمات کی ایک جھلک نمایاں ہو جاتی ہے۔آپ تحریر فرماتے ہیں : جماعت احمد یہ سکنڈے نیویا کی پہلی سالانہ کانفرنس 5, 6, 7 اگست سٹاک ہائم میں منعقد ہوئی۔کانفرنس کے انتظامات مکمل کرنے میں برادرم سیف الاسلام صاحب محمود نے سب سے زیادہ ہاتھ بٹایا اور بڑے اخلاص کے ساتھ کانفرنس کو کامیاب بنایا۔5 اگست کو کانفرنس کا آغاز نماز جمعہ کے ساتھ کیا گیا۔جس میں سویڈن، ناروے، ڈنمارک کے احمدی نمائندوں کے علاوہ عرب جمہوریہ اور سٹاک ہالم کے بعض غیر احمدی اصحاب بھی شامل ہوئے۔بہت سے عیسائی زائرین نے بھی کارروائی سنی۔اس موقعہ کی فلم بھی اتاری گئی۔5 اگست کی شام کو وسیع پیمانہ پر ایک عام اجلاس کیا گیا۔اس میں برادر محمد عبد السلام صاحب میڈسن نے احمدیت برادرم سیف الاسلام صاحب محمود ارکسن نے حضرت مسیح کا مقام قرآن مجید کی رو سے اور خاکسار نے تعلیم الاسلام کے مواضع پر۔ڈینیش ،سویڈش اور نارویجن میں تقاریر کیں۔کثرت سے عیسائی شامل ہوئے۔پاکستان اور عرب جمہوریہ کے