تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 304
تاریخ احمدیت 304 عزیز ڈاکٹر سید بشیر حیدر صاحب کو چونیاں پہنچادیا اور وہ آپ کے کلاس فیلو بن گئے۔جلد 21 آپ کے والد صاحب نے فروری یا مارچ 1895 ء میں سارے کنبہ کو چونیاں سے سیالکوٹ بلا لیا۔یہاں پہنچنے کے بعد سید بشیر حیدر صاحب اور چونیاں کے دوسرے مسلمان دوستوں کے خطوط کا تانتا بندھ گیا۔آپ پا پیادہ سیالکوٹ پہنچے اور سید بشیر حیدر صاحب کے بالا خانہ میں قیام کیا۔شاہ صاحب کی لائبریری میں حضرت مسیح موعود کی کتاب نشان آسمانی اور انوار الاسلام موجود تھی جن کے مطالعہ نے آپ کے دل میں عرفان و حکمت کے چشمے جاری کر دئے اور آپ حضرت سید میر حامد شاہ صاحب کا تعارفی خط لے کر حضرت اقدس مسیح موعود کی خدمت اقدس میں قادیان پہنچے۔حضور انور نے آپ کو کلمہ طیبہ پڑھایا اور آپ داخل احمدیت ہو گئے جس کے بعد آپ کی زندگی کا ایک نیا اور انقلابی دور شروع ہو گیا۔حضرت بھائی جی ان اصحاب خاص میں سے تھے جن کی پوری زندگی بلکہ زندگی کا ہر سانس دینی خدمات سے عبارت ہے۔آپ کو حضرت حافظ حامد علی صاحب کے بعد مسیح دوراں کے خادم خاص ہونے کا موجب صد افتخار اعزاز حاصل ہوا اور یہ اعزاز آپ نے دور خلافت میں بھی پورے اخلاص و وفا کے ساتھ جاری رکھا۔اور اس سلسلہ میں آپ دنیائے احمدیت میں اس درجہ شہرت یافتہ تھے کہ میاں محمد یا مین صاحب تاجر کتب خانہ قادیان نے 25 نومبر 1920ء کو اپنی کتاب ”قادیان گائیڈ میں بطور خاص شیدائی“ کے زیر عنوان لکھا: حضرت خلیفہ اسیح ثانی کے خدام اور شیدائی یوں تو آپ کے سب کے سب مبائعین ہیں لیکن سب سے زیادہ خدمت کرنے والے بعض یہ ہیں مثلا شیخ عبدالرحمان صاحب قادیانی ، نیک محمد عبد الاحد احمد الدین زرگر وغیرہ وغیرہ (صفحہ 112) وو محترم ملک صلاح الدین صاحب ایم اے درویش قادیان کی مشہور تالیف اصحاب احمد جلد نہم اور کتاب ”حضرت بھائی جی عبدالرحمان قادیانی میں آپ کے مفصل سوانح اور کارناموں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ذیل میں صرف ان کے خلاصہ پر اکتفا کیا جاتا ہے: دور اول : 1۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے 21 دسمبر 1896ء کو جلسہ اعظم مذاہب کے لئے ایک اشتہار سچائی کے طالبوں کے لئے ایک عظیم الشان خوشخبری لکھا۔آپ یہ مطبوعہ اشتہار لے کر لاہور پہنچے اور حضور