تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 303 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 303

تاریخ احمدیت 303 جلد 21 برہمنوں کی بھرتی ممنوع بتائی جاتی ہے۔یہ ان کا اپنا بیان ہے، لیکن ہزارہ خاص میں موہیاں پر وہتا نہ فرائض سر انجام دیتے اور دوسرے برہمنوں کی طرح نذرانے اور دان وصول کرتے ہیں۔13 ماہیال قوم کے دوسرے اکثر راجپوت قبائل مثلاً منہاس، چپ لوہدرہ چوہان وغیرہ مہتہ کہلاتے ہیں۔محقق پاکستان انجم شہباز سلطان ایم اے کے نزدیک راجہ جگ دیو کے برج دیو اور رام دیو د ولڑکے تھے۔راجا رام دیو نے مہتہ کا لقب اختیار کیا۔۔۔۔مہی سنسکرت کا لفظ ہے جس کے معنی بزرگی کے ہیں۔یہ گوت نہیں بلکہ 66 لقب ہے۔19 نیز لکھتے ہیں: ”جو راجپوت میدان جنگ میں کار ہائے نمایاں دکھاتا تھا اس کو مہنہ کا لقب دیا جاتا تھا۔مہتہ کا لفظ انگریزی زبان کے نائیٹ (KNIGHT) کے مترادف ہے“۔20 ای ڈی میکلین اور ایچ اے روز کا بیان ہے کہ ہزارہ خاص میں موہیال۔۔۔دوسرے برہمنوں کی طرح نذرانے اور دان وصول کرتے تھے۔حضرت بھائی صاحب کے والد ماجد کا نام مہتہ گوراند تیل تھا اور والدہ کا نام پاربتی دیوی تھا۔ابتدائی تعلیم بکالیاں ضلع (گجرات) کے مدرسہ میں حاصل کی۔ازاں بعد اپنے والدین کے ساتھ تحصیل چونیاں کے بعض سکھ دیہات میں آگئے جہاں ایک مقامی پنڈت جی سے ہندی پڑھی اور دید منتر زبانی یاد کئے۔پھر آپ نے چونیاں کے ایک مدرسہ میں داخلہ لیا۔سکول کے کورس میں ان دنوں ایک کتاب رسوم ہند داخل تھی۔اس کتاب کے مطالعہ نے آپ پر مقناطیسی اثر کیا اور آپ کی کایا پلٹ گئی۔اور آپ دل سے (دین حق ) پر فریفتہ ہو گئے۔اور حلاوت ایمانی جناب الہی کی طرف سے آپ کے رگ و پے میں سرایت کر گئی۔یہاں تک قلبی انقلاب ہوا کہ رات کو سوتے وقت اس بات کا خاص اہتمام کرنے لگے کہ آپ کی چارپائی ایسے رُخ پر رہے کہ پاؤں قبلہ کی طرف نہ ہوسکیں۔آپ ابھی مڈل کے طالب علم تھے کہ 1894ء میں ظہور مہدی الزماں کا مشہور عالمی نشان کسوف و خسوف ظاہر ہو گیا۔سکول کے ہیڈ ماسٹر مولوی جمال الدین صاحب مولوی فاضل منشی فاضل نے سب طلبہ کو بتایا کہ مہدی موعود کی سب سے بڑی علامت معرض وجود میں آچکی ہے اس لئے اس کی تلاش کرنی چاہئے۔اس دوران اللہ تعالیٰ نے آپ کی خصوصی رہنمائی کے لئے حضرت میر حامد شاہ صاحب کے ایک