تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 302
تاریخ احمدیت تالیفات 302 جلد 21 عروج احمدیت ، شانِ محمد ، خدائی بشارت ، صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ، احرار کے کار ہائے نمایاں ، اسمہ احمد ، آسمانی مصلح کی ضرورت ، عام مسلمان مولانا مودودی کی نظر میں ، حدیث لا نبی بعدی میں الجھنے والے علماء کے سامنے راہ نجات ( پمفلٹ) ، اقلیت قرار داد و ہینڈیل۔اولاد: (بیٹے محترم بشارت احمد صاحب ، محترم سعادت احمد صاحب، محترم ہدایت احمد صاحب، محترم عبدالسمیع صاحب (سب امریکہ میں مقیم ہیں ) (بیٹیاں) محترمہ رحمت بیگم صاحبہ اہلیہ ڈاکٹر عبداللہ صاحب مرحوم کراچی محترمہ نصرت بیگم صاحبہ اہلیہ مولانا امام الدین صاحب مرحوم مجاہد انڈونیشیا محتر مہ امۃ الہادی صاحبہ اہلیہ رشید الدین صاحب مرحوم کراچی محترمہ امۃ الرشید ممتاز صاحبہ اہلیہ عطاء اللہ صاحب بنگوی مرحوم کراچی محترمہ امتہ السمیع شہناز صاحبہ اہلیہ نصیر احمد صاحب مرحوم اسلام آباد محترمہ مبارکہ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم ابرار احمد صاحب کراچی محترمه کشور احسان صاحبہ اہلیہ احسان الہی صاحب امریکہ۔16 حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی (سابق ہریش چندر) (ولادت یکم جنوری 1879 ء۔بیعت و زیارت ستمبر 1895 ء۔وفات 5/6 جنوری 1961ء) حضرت بھائی صاحب سارسوت برہمنوں کی ایک ذیلی شاخ ماہیال کے چشم و چراغ تھے۔سر ڈینزل ابسٹن کی تحقیق کے مطابق :- کہا جاتا ہے کہ ان کا نام ان سات مہینوں یا قبیلچوں کی وجہ سے پڑ گیا جو ان میں شامل ہیں۔وہ کافی حد تک دامن کوہ خطہ کو ہستان نمک تک محدود ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ ان کے آباء و اجداد نے مغل دور میں اعلیٰ رتبات حاصل کئے جس کے بعد انہوں نے تمام پجار یا نہ کام یا مقدس کردار کا دعوی کرنا چھوڑ دیا۔وہ کا شتکاری کرتے ہیں، لیکن خاص طور پر فوج کی نوکری یا کلر کی بھی۔وہ برہمن کہلانے پر اعتراض کرتے ہیں کیونکہ ہماری فوج میں