تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 301 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 301

تاریخ احمدیت 301 لئے داخل ہو گئے۔اس کلاس میں بعض ہم سے پہلے کے طلباء بھی شامل تھے۔آخر یکم مئی 1927 ء کو محترم مولوی قمر الدین صاحب محترم مولوی عبدالغفور صاحب اور خاکسار فارغ التحصیل ہو کر با قاعدہ طور پر واقف زندگی مبلغین سلسلہ میں شامل ہوئے۔ہمارے مولوی فاضل کے ساتھیوں میں سے محترم مولوی محمد عبد اللہ صاحب مالا باری بھارت میں جاں فشانی سے قابل رشک خدمات سلسلہ بجا لا رہے ہیں۔محترم مولوی تاج الدین صاحب لائل پوری ربوہ میں دار القضاء کے ناظم ہیں، محترم مولوی عزیز بخش صاحب کئی سال سے وفات پاگئے ہیں۔۔۔۔محترم مولانا عبد الغفور صاحب اور خاکسار اب پاکستان میں خدمات دینیہ پر مامور ہیں۔مولانا مرحوم دو سال پیشتر قواعد صدر انجمن احمدیہ کے ماتحت ریٹائر ہو چکے تھے مگر وہ ولولہ اور جوش جو ابتداء سے آپ کو اپنے نیک باپ سے ورثہ میں ملا تھا اور جسے بہترین اساتذہ نے جلا بخشا تھا آپ کو آرام سے بیٹھنے نہیں دیتا تھا۔چنانچہ آپ نے تحریک جدید میں کام شروع کر دیا۔ربوہ کی مجلس انصار اللہ میں آپ زعیم اعلیٰ تھے اور جہاں موقعہ ملتا آپ شوق سے تقریر وغیرہ کے لئے تشریف لے جاتے۔ابھی نومبر کے آخری عشرہ میں ہم چک نمبر 46 شمالی سرگودھا گئے تھے۔مولوی صاحب موصوف نے وہاں ایک پُر جوش تقریر فرمائی تھی۔میں نے طالب علمی اور خدمات سلسلہ کے طویل عرصہ میں اخویم محترم مولانا ابوالبشارت صاحب کو نہایت متقی اور سلسلہ کا غیور سپاہی پایا ہے۔آپ نے تقریر اور مباحثہ کے میدان میں بھی نمایاں خدمات سرانجام دی ہیں۔تقسیم ملک سے پہلے اڑیسہ اور شکر گڑھ کے علاقہ میں عرصہ دراز تک متعین رہے اور ہندوستان اور پھر پاکستان کے اکثر علاقوں کا تبلیغی دورہ کیا اور ملک کے طول وعرض میں اسلام واحمدیت کی صداقت کا اعلان فرماتے رہے۔آپ کی طبیعت تکلف اور ریا کاری سے بہت دور تھی۔سفر میں ساتھیوں کا بہت خیال رکھتے تھے۔اگر کبھی کوئی غلط فہمی پیدا ہوتی تو فوراً اس کی اصلاح ہو جاتی تھی۔ایک جفاکش اور نڈر خادم سلسلہ تھے۔1953ء کے فسادات میں آپ لاہور میں متعین تھے۔آپ نے اس موقعہ پر بھی نہایت دلیری سے کام کیا۔آپ کی خاص خاص تقریریں بہت گہرے معارف اور عشق نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر مشتمل ہوتی تھیں اور بہت پسند کی جاتی تھیں۔محترم مولوی صاحب کی وفات سے ایک بہت بڑا خلا پیدا ہو گیا ہے۔ہم اپنے ایک مخلص ساتھی سے محروم ہو گئے ہیں۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔جلد 21