تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 271
تاریخ احمدیت 271 خوشی مجھے حاصل ہو رہی ہے اس کا اصل حقدار وہی تھا جس نے کھیت بونے اور پودے لگانے میں اپنی زندگی خرچ کر دی۔مجھے یاد ہے 1924ء میں جب میں لنڈن گیا اور میں نے وہاں مسجد کی بنیا درکھی تو اس وقت میری یہ کیفیت تھی کہ میرے آنسو تھمنے میں ہی نہیں آتے تھے۔کیونکہ اس وقت وہ نظارہ میری آنکھوں کے سامنے پھر گیا جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خدا تعالیٰ سے الہام پا کر یہ اعلان فرمایا تھا کہ :۔دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا“ جب یہ الہام پا کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام دنیا کے مقابلہ میں کھڑے ہوئے اس دنیا کے مقابلہ میں جس کا ایک ایک فرد آپ کے خون کا پیاسا تھا آپ کو لالچی ، حریص ، خود غرض اور کیا کچھ کہ رہا تھا تو اس وقت آپ کی کیا حالت ہوگی۔آپ اس مخالفت کو دیکھ کر دنیا سے متنفر ہوں گے۔مگر خدا تعالیٰ نے کہا کہ اٹھ اور دنیا میں میرے نام کی منادی کر اور اسے کہہ دے کہ حان ان تعان و تعرف بين الناس۔وہ وقت آ گیا ہے کہ خدا ترکی مدد کرے اور دنیا میں تجھے لا زوال شہرت عطا کرے۔اس وقت آپ کو بار بار یہ خیال آتا ہو گا کہ میں تو کسی شخص سے ملنا بھی نہیں چاہتا مگر میرا خدا مجھے کہتا ہے کہ جا اور لوگوں کو بلا آپ نے خدا تعالیٰ کے حکم کو قبول کر کے وہ موت اختیار کی جس سے بڑھ کر انبیاء کے لئے اور کوئی موت نہیں ہوتی آپ گوشہ تنہائی سے نکل کر دنیا کے سامنے جا کھڑے ہوئے اور دنیا سے وہ سب کچھ کہلوایا جو پہلے نبیوں کو کہا جاتا رہا ہے۔کبھی کہا گیا یہ حریص ہے یہ مال و دولت جمع کرنا چاہتا ہے اور اپنی دکانداری چلانا چاہتا ہے بھی دنیا آپ کی باتوں پر ہنستی اور کہتی کیسی پاگلا نہ باتیں کر رہا ہے کبھی آپ کو مفسد اور فتنہ پرداز قرار دے کر طرح طرح کے دکھ دیئے جاتے کبھی آپ پر قسم قسم کے غلط اور جھوٹے الزام لگا کر کوشش کی جاتی کہ کسی کو آپ کی بات تک سننے نہ دی جائے۔سوچو اور غور کرو کہ وہ کیسی تلخ گھڑیاں تھیں کیسا سخت زمانہ تھا جو آپ پر گذرا۔لیکن جب ان دنوں کی دعاؤں اور کوششوں کے نتیجہ میں وہ بابرکت دن آئے کہ خدا تعالیٰ نے اس کے نام کو دنیا میں عزت و احترام کے ساتھ پھیلا دیا کامیابیوں اور فتوحات کے دروازے کھول دیئے تو وہ اپنے مالک حقیقی کے پاس پہنچ چکا تھا اور انعامات سے اور جلد 21