تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 242 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 242

تاریخ احمدیت 242 جلد 21 221 شریف تو آپ نے درسا در سا مکمل کی۔حضرت سیدہ نواب مبار کہ بیگم صاحب تحریر فرماتی ہیں: حضرت سیدنا بڑے بھائی صاحب ( حضرت خلیفتہ اسیح لثانی کی طرح) ان پر بھی خدا تعالی کا خاص فضل اس صورت میں نازل ہوا تھا کہ ان کا علم وسیع تھا، بہت ٹھوس تھا جو سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کس وقت پڑھا اور کہاں پڑھا۔مگر علم دین کے ہر پہلو پر عبور تھا۔عربی ایسی اعلیٰ پڑھاتے تھے کہ چند دن میں پڑھنے والے کو کہیں سے کہیں پہنچا دیتے۔فروری 1914 ء میں حضرت خلیفہ اسیح الاول بستر علالت پر تھے۔ڈاکٹروں نے مشورہ دیا کہ حضور شہر سے باہر کھلی فضا میں منتقل ہوں۔اس پر مولوی محمد علی صاحب اور مولوی صدر الدین صاحب نے منصوبہ بنایا کہ آپ کو بورڈنگ ہائی سکول کی بالائی منزل پر لے جایا جائے اور اس طرح پہرہ لگایا جائے کہ ان کے ہم خیالوں کے علاوہ کوئی اندر نہ جاسکے۔حضرت مرزا شریف احمد صاحب کو جب اس کا علم ہوا تو آپ نے اس کا ذکر نواب محمد عبد اللہ خان صاحب سے کیا۔دونوں کی تحریک پر حضرت نواب محمد علی خان صاحب نے حضرت خلیفہ اول سے درخواست کی کہ آپ انکی کوٹھی میں تشریف لے جائیں۔چنانچہ حضرت خلیفہ اول نے یہ درخواست قبول فرمالی اور آپ 27 فروری 1914ء کو کوٹھی میں منتقل ہو گئے۔منصوبہ باندھنے والوں نے اپنے مقصد کی تکمیل کے لئے چار پائی کو بورڈ نگ تعلیم الاسلام ہائی سکول کے سامنے رکوالیا۔حضرت خلیفہ اول نے حسرت سے فرمایا : ہیں، یہ اس جگہ مجھے لا رہے ہیں۔حضرت مرزا شریف احمد صاحب اس وقت چار پائی کے ساتھ ہی کھڑے تھے۔آپ نے اونچی آواز سے کہا کہ حضور یہ صرف چلنے والوں کو آرام دینے کے لئے ہے۔ورنہ ویسے آپ نواب صاحب کی کوٹھی پر ہی جا رہے ہیں۔“ یہ بات سن کر حضرت خلیفہ اول مطمئن ہو گئے اور خدام بھی چار پائی لے کر آگے چل پڑے۔اس طرح یہ منصوبہ پوری طرح ناکام ہو گیا۔222 13 مارچ 1914 ء کو حضرت خلیفہ اول کا وصال ہو گیا اور 14 مارچ 1914ء کو خلافت ثانیہ کا بابرکت آغاز ہوا۔آپ نے منکرین خلافت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ہمیشہ ہی خلافت کے پرزور حامی اور علمبر دار ہے۔خلافت ثانیه 1920ء میں حضرت میاں صاحب ڈیرہ دون میں برہا کمپنی میں لفٹینٹ مقرر ہوئے۔جناب نیک محمد خان صاحب غزنوی کا بیان ہے کہ: آپ کی ابتدائی ٹریننگ پر صو بیدار مدد خان صاحب جو راولپنڈی کے رہنے والے تھے