تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 243
تاریخ احمدیت 243 جلد 21 223 متعین ہوئے۔قریباً ڈیڑھ مہینہ انہوں نے حضرت میاں صاحب کو ٹریننگ دی اور پھر اپنے انگریز کرنل سے کہا جو کچھ یہ جانتے ہیں میں بھی نہیں جانتا۔یہ تو اب مجھے پڑھاتے ہیں۔میں نے ایسا فہم کا مالک اور نکتہ رس آدمی آج تک نہیں دیکھا۔تمام کمپنی میں آپ کی نہایت درجہ تعظیم تھی۔بڑے بڑے افسر بھی سب آپ کا احترام کرتے تھے۔21 جون 1921 ء کو قادیان میں پہلی مبلغین کلاس جاری ہوئی جس کے استاد حضرت حافظ روشن علی صاحب تھے۔کلاس میں مولانا جلال الدین صاحب شمس جیسے اکابر علماء تعلیم حاصل کرتے تھے۔یہ کلاس آپ کے مکان پر لگتی تھی۔قرآن مجید صحاح ستہ مکمل اور اصول فقہ کی بعض بنیادی اور بڑی کتب آپ نے دوسرے علماء کے ساتھ پڑھیں۔1922ء میں مجلس مشاورت کا آغاز ہوا۔مجلس کی مطبوعہ رپورٹوں کے مطابق آپ نہ صرف اس پہلی مشاورت میں شامل تھے بلکہ (شاید چند مستثنیات کے سوا) آپ عمر بھر با قاعدگی کے ساتھ اس میں شرکت فرماتے رہے۔اسی سال احمدی نوجوانوں میں جفاکشی ، بہادری اور فوجی سپرٹ پیدا کرنے کے لئے احمدیہ ٹیریٹوریل کمپنی انبالہ کا قیام ہوا۔جس کے افسر اور کمانڈر حضرت میاں صاحب تھے۔آپ کی ذاتی دلچسپی ہمحنت و جانفشانی اور غیر معمولی جد و جہد کے نتیجہ میں اس کمپنی نے دوسری کمپنیوں میں بڑا نام پیدا کیا نیز ڈرل چاند ماری اور کھیلوں میں اپنی برتری کا لوہا منوایا اور انعامات جیتے جن کا تفصیلی ذکر صدرانجمن احمدیہ کی سالانہ رپورٹوں میں ملتا ہے۔یہ ایک مثالی کمپنی تھی جس کا ڈسپلن نہایت معیاری تھا اور اس کے جوان نماز با جماعت با قاعدہ ادا کرتے تھے۔جس کا دوسروں پر بہت عمدہ اثر ہوتا تھا۔آپ 35-1934 میں لف سے ترقی کر کے کیپٹن مقرر ہوئے۔کمپنی کے لئے نئی ریکروٹنگ کا کام نہایت مشکل مسئلہ ہوتا تھا مگر آپ نے ہمیشہ اس کو نہایت خوش اسلوبی سے حل کیا۔اس کمپنی کے تربیت یافتہ احمدی نوجوانوں نے آئندہ چل کر ملک وملت کی بہت شاندار خدمات سر انجام دیں۔227 صو بیدار عبدال صاحب دہلوی کا بیان ہے کہ: دوسرے افسران دوران پریڈ میں اکثر خفگی کا اظہار کرتے اور سخت سست کہتے مگر میں نے حضرت میاں صاحب کے چہرے پر کبھی غصہ کی علامت نہیں پائی۔بڑے عمدہ پیرائے میں اپنی بات سمجھانے کی کوشش کرتے۔یہ ایک فوجی آفیسر میں بہت بڑی خوبی ہوتی ہے۔لفٹینٹ