تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 159
تاریخ احمدیت 159 101 جلد 21 9۔نگران بورڈ کو یہ معلوم کر کے بہت خوشی ہوئی ہے کہ گوجرانوالہ میں جو چار ضلعوں کے خدام کا تربیتی کورس کا اجتماع 100 گذشتہ دنوں میں ہوا ہے وہ خدا کے فضل سے بہت کامیاب رہا تھا اور اس کی وجہ سے نو جوانوں میں نئی زندگی کی لہر اور کام کا نیا جذبہ پیدا ہوا۔نگران بورڈ تجویز کرتا ہے کہ اس قسم کے اجتماعات مختلف مراکز میں ضرور وقفہ وقفہ کے ساتھ ہوتے رہیں۔تا کہ جماعت کی بیداری اور نو جوانوں کی تربیت کا موجب ہوں۔اسی طرح سے جو اجتماع عہدیداران ضلع شیخو پورہ کا ہوا وہ بھی خدا کے فضل سے کامیاب اور مفید اور نتیجہ خیز رہا اسی طرح کراچی ، راولپنڈی اور پشاور اور دیگر مقامات کے اجتماعات بھی ایک عرصہ سے خدا کے فضل سے بہت کامیاب نتائج پیدا کر رہے ہیں۔بورڈ کی طرف سے جماعت میں تحریک کی جائے کہ خدام اور انصار اللہ اور عہدیداران جماعت کے اجتماعات مناسب موقعہ پر وقتاً فوقتاً منعقد کئے جائیں تا کہ وہ نو جوانوں اور انصار اللہ اور عہدیداران جماعت کی تربیت اور بیداری کا موجب ہوں اور نیکی اور خدمت اور اتحاد جماعت کے جذبے کو ترقی دیں۔(فیصلہ اجلاس یکم اکتوبر 1961ء) 10۔کچھ عرصہ سے پاکستان میں مسیحی مشنریوں کی مساعی کا زور ہو رہا ہے اور جیسا کہ بعض اخباروں کی رپورٹوں سے ظاہر ہے نا واقف مسلمانوں کا ایک طبقہ اپنی جہالت اور اسلامی تعلیم کی ناواقفیت کی وجہ سے عیسائیت کی آغوش میں جا رہا ہے اس تحریک کو دو وجہ سے تقویت حاصل ہوئی ہے ایک امریکن ایڈ کی وجہ سے جس کے نتیجے میں گویا ملک میں امریکن مشنریوں کا سیلاب آ رہا ہے دوسرے اس وجہ سے کہ ملک میں حکومت کے سکولوں کی بہت کمی ہے اور مسلمان بچے اور بچیاں مجبور عیسائی سکولوں میں داخلہ لینے کارستہ تلاش کرتے ہیں اور پھر خاموش طور پر کچی عمر میں عیسائیت کے خیالات اور تمدن سے متاثر ہو جاتے ہیں لیکن اس وقت تک حکومت نے اس خطرے کے سدباب کے لئے کوئی خاص قدم نہیں اٹھایا۔صدرانجمن احمدیہ کو چاہئے کہ اول تو اسلام کی تبلیغ اور مسیحیت کے مقابلہ کے لئے مؤثر اقدامات اختیار کرے دوسرے صدر صاحب صدر انجمن احمد یہ صدر مملکت فیلڈ مارشل محمد ایوب خان صاحب کو اس خطرے کے مختلف پہلوؤں سے آگاہ کرنے کی کوشش کریں۔(ایضاً) 11۔ان دنوں پھر مخالفین کی طرف سے ختم نبوت والی تحریک کو مختلف رنگوں میں جاری کر کے فتنہ پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے لہذا کوئی کمیٹی مقرر کر کے مواد جمع کرالیا جائے تا کہ وقت پر جواب تیار ہو سکے اور حکومت کو بھی اس امکانی فتنہ کی طرف توجہ دلائی جا سکے۔یہ خدمت مولوی محمد صدیق صاحب انچارج خلافت لائبریری اور شیخ خورشید احمد صاحب اسٹنٹ ایڈیٹر الفضل“ کے سپرد ہوئی۔12۔مری کا پہاڑی مقام بہت اہمیت حاصل کر گیا ہے اور مسیحی مشنری بھی وہاں زیادہ توجہ دے