تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 139
تاریخ احمدیت 139 جلد 21 وکیل اعلیٰ گیمبیا میں محترم جناب چوہدری حمید اللہ صاحب وکیل اعلیٰ دورہ افریقہ کے دوران 17 جولائی 1985ء کو گیمبیا تشریف لائے۔ریڈیو گیمبیا نے آپ کی آمد سے قبل تین زبانوں میں خبر دی جو تین بارنشر ہوئی۔آپ نے اگلے روز نائب صدر مملکت آنریبل B۔B۔DASBOE سے ساڑھے گیارہ بجے سے تقریباً 12 بجے تک ملاقات کی۔دوران ملاقات نائب صدر موصوف نے جماعت کی خدمات کو سراہا اور کہا کہ جماعت کے نتیجہ میں دوسرے مسلمانوں میں حوصلہ پیدا ہوا ہے۔اس ملاقات میں آپکے ساتھ مکرم داؤ داحمد صاحب حنیف انچارج مشن اور جماعت کے نیشنل پریذیڈنٹ اور فنانشل سیکرٹری بھی تھے۔اس دن آپ نے وزیر صحت سے بھی ملاقات کی۔یہ ملاقات بھی نہایت خوشگوار ماحول میں ہوئی۔آپ کی آمد پر ایک استقبالیہ تقریب بھی منعقد کی گئی جس میں سیرالیون کے سفراء ، لوکل میڈیکل کونسل کے چیئر مین ڈاکٹر اور بعض دیگر غیر از جماعت معززین نے بھی شرکت کی۔محترم وکیل اعلیٰ صاحب نے اندرون ملک تمام جماعتوں ، میڈیکل سنٹرز اور احمد یہ سکولوں کا معائنہ فرمایا۔تبلیغی اور تربیتی خطابات فرمائے۔جماعتی عاملہ، ڈاکٹروں ، ٹیچروں اور مبلغین کی میٹنگوں میں ہدایات دیں۔مشن کے حسابات ، رجسٹرز اور فائلیں دیکھیں۔تربیتی اور تبلیغی کیسٹس کی لائبریری ، نمونہ کی لائبریری اور لٹریچر وغیرہ کا معائنہ کیا۔جماعتوں کے دورہ میں مولوی داؤ د احمد حنیف صاحب ہمراہ تھے۔یہ دور 0 25 جولائی کو اختتام پذیر ہوا۔احباب جماعت نے ایئر پورٹ سے آپ کو دعاؤں سے رخصت کیا۔جلسہ سالانہ برطانیہ اور سپین کے مناظر اپریل مئی 1985ء میں احمد ہم مشن کی طرف سے جلسہ سالانہ برطانیہ اور بیت البشارت اسپیکین کی وڈیو کیسٹ دکھائی گئیں نیز حضرت خلیفہ مسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ کے خطبات اور جلسہ سالانہ برطانیہ کی لیسٹس کا مقامی زبان میں ترجمہ کر کے جماعتوں کو بھجوایا گیا۔ان ایام میں داعیان الی اللہ نے نہات سرگرمی سے بانجل، سالکینی بالا با شیلے کو فرافینی سیماٹا یا ڈونگورا فیل سمانابانا نایاب اور کوٹا میں پیغام حق پہنچایا۔ایک داعی الی اللہ نے سینی گال کے تین گاؤں کو دعوت حق دی اور لٹریچر دیا۔مرکزی اور مقامی مبلغین بھی اعلیٰ شخصیات سے ملاقاتوں، فولڈرز کیسٹس اور تقاریر کے ذریعہ اشاعت احمدیت میں مصروف رہے اور تعلیم القرآن کلاسز کے ذریعہ مردوں، عورتوں اور بچوں کو میسر نا القرآن نماز اور دینی معلومات کا سبق دیتے رہے۔مئی کے وسط اول میں چار افراد کو قبول احمدیت کی توفیق ملی۔