تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 123
تاریخ احمدیت 123 جلد 21 کے ہے۔اسپر صدر مملکت نے کھڑے ہو کر یہ آسمانی تحفہ وصول کیا۔حضور نے فرمایا کہ یہ اس نئی تالیف کا پہلا نسخہ ہے جو سارے مغربی افریقہ میں کسی کو دیا گیا ہے۔اسی روز شام کو سابق گورنر جنرل گیمبیا الحاج ایف ایم سنگھاٹے نے حضور کے اعزاز میں اٹلانٹک ہوٹل میں وسیع پیمانہ پر ایک دعوت استقبالیہ کا اہتمام کیا جس میں سربراہ جمہور یہ گیمبیا وزیر تعمیر ومواصلات، وزیر تعلیم ، ہاوسا قبیلے کے امام، کیتھولک مشن کے سربراہ ، باتھرسٹ کے میئر، برطانوی ہائی کمشنر ، امریکن سفیر ، سفیر نائجیریا، لبنان کے کونسل ، پولیس افسران و دیگر متعدد سر بر آوردہ افراد اور معززین شہر نے شرکت کی۔حضور کا ہر مہمان سے تعارف کرایا گیا۔حضور نے سب شخصیات سے ان کے مناسب حال گفتگو فرمائی۔صدر مملکت سے خاصی دیر تک گفتگو جاری رہی۔عشائیہ کے بعد حضور نے عہدیداران جماعت کا اجلاس بلایا جس میں حضور نے دریافت فرمایا کہ اس ملک کی کیسے خدمت کی جاسکتی ہے؟ عرض کیا گیا یہاں مسلمان بچوں کے لئے کوئی سکول نہیں اور اسکی اشد ضرورت ہے۔حضور نے فرمایا اگر ہم سات سال میں پانچ سکول کھولیں تو ایک دن یونیورسٹی بنانی پڑے گی۔نیا میڈیکل سنٹر کھولنے کے لئے حضور نے ڈاکٹر سعید احمد صاحب سے منصوبہ تیار کرنے کا ارشاد فرمایا۔اگلے دن 3 مئی کو صبح ساڑھے دس بجے حضور نے گیمبیا گورنمنٹ سیکنڈری سکول میں احمدی احباب اور بہنوں سے ایک نہایت روح پرور اور ولولہ انگیز خطاب فرمایا۔جسکا ترجمہ ساتھ ساتھ وولف اور میڈ نگازبانوں میں کیا گیا۔خطاب کے بعد حضور نے دعا کی اور سب احباب کو شرف مصافحہ بخشا اور بچوں کو سینے سے لگا کر پیا رکیا۔احمدی مستورات سے حضرت سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ نے ملاقات فرمائی۔حضور نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ اسلام کی فتح کی پو پھوٹ چکی ہے۔تمام انسانوں کے دل محمد رسول اللہ اللہ کے لئے جیتے جائیں گے۔شام کو حضور نے باتھرسٹ کے نواح میں بنو کا کنڈا کے مقام پر پہلے مسجد اور پھر نصرت ہائی سکول کا سنگ بنیاد اپنے دست مبارک سے رکھا اور اجتماعی دعا کروائی۔حضرت سیدہ منصورہ بیگم صاحبہ اور صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب نے بھی بنیادی اینٹیں رکھیں۔نصرت جہاں آگے بڑھو سکیم 46 گیمبیا میں حضور کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اشارہ ہوا کہ کم از کم ایک لاکھ پاؤنڈ مغربی افریقہ کے ملکوں میں خرچ کر دینا چاہئے۔یہی وہ زندہ جاوید آسمانی تحریک ہے جو آگے چل کر نصرت جہاں آگے بڑھو سکیم کے نام سے موسوم ہوئی۔جسکے ماتحت گیمبیا میں ہی نہیں بلکہ نایجیریا، غانا اور سیرالیون میں بھی سکولوں اور میڈیکل سنٹروں کا جال بچھا دیا گیا۔5 مئی 1970 ء کو حضرت خلیفتہ المسیح الثالث کی گیمبیا سے روانگی کا پروگرام تھا۔پونے گیارہ بجے حضور متعلقر پر تشریف لائے اور گیمبیا کا نہایت کامیاب دورہ مکمل