تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 84
تاریخ احمدیت 84 جلد 21 وزیر اعظم کی طرف سے مجھے ارشاد ہوا ہے کہ میں آپ کے 12 جنوری 1960 ء والے خط کا بہت بہت شکریہ ادا کروں۔جس میں آپ نے انہیں اور ان کی اہلیہ لیڈی ڈور تھی کو خوش آمدید کہا ہے۔وہ آپ کی طرف سے پیش کردہ تین کتب کے بہت ہی شکر گزار ہیں۔“ لجنہ اماءاللہ نائیجیریا کی طرف سے لیڈی ڈور تھی کو اسلامی اصول کی فلاسفی کا ایک نسخہ بطور ہدیہ پیش کیا گیا۔اور لکھا گیا: لجنہ اماءاللہ نائیجیریا کی طرف سے خاکسارہ آپ کی نائیجیریا میں آمد پر دلی خوش آمدید کہتی ہے۔اور نہایت ادب و احترام کے اسلامی اصول کی فلاسفی کا ایک نسخہ پیش کرتی ہے۔یہ کتاب جماعت احمدیہ کے بانی حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام نے لکھی ہے۔مجھے امید ہے کہ آپ اسے بہت مفید پائیں گی۔ایک دفعہ پھر خوش آمدید کہتے ہوئے دعا گو ہوں کہ آپ کا قیام نایجیریا میں بہت بابرکت ہو۔خاکسار سکینہ سیفی۔پریذیڈنٹ لجنہ اماءاللہ۔وزیر اعظم کے سیکرٹری کی طرف اس کے جواب میں حسب ذیل خط موصول ہوا۔لیڈی ڈورتھی میکملن نے مجھے ہدایت کی ہے کہ میں آپ کے خط مورخہ 12 جنوری 1960ء کے جواب میں ان کی طرف سے آپ کا شکریہ ادا کروں۔لیڈی ڈور تھی آپ کی طرف سے پیش کردہ کتاب اسلامی اصول کی فلاسفی پر بہت ہی شکر گزار ہیں۔“ ڈاکٹر بلی گراہم کی آمد ماہ جنوری 1960ء میں دنیا کے مشہور عیسائی منادڈاکٹر بلی گراہم آف امریکہ کے مغربی افریقہ آنے کی خبر نائیجیریا کے اخبارات میں شائع ہوئی۔ڈاکٹر گراہم بہت بلا کے مقرر ہیں اور ہمیشہ عیسائیت کی تبلیغ کرتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ جب 1904ء میں انہوں نے انگلینڈ کا دورہ کیا تو ان کے لیکچروں کی مقبولیت کا یہ حال تھا کہ لنڈن بھر میں کوئی ایسا ہال نہ تھا جو ان کے سامعین کے لئے کافی ہو۔لوگ گھنٹوں بھر ہال سے باہر کھڑے سردی میں ان کی تقریر سنتے رہتے تھے۔ان کا مرتب کردہ پروگرام ” فیصلہ کا وقت دنیا کے تین سو ریڈیو اسٹیشنوں سے براڈ کاسٹ کیا جاتا ہے۔جب ڈاکٹر گراہم کی نائیجیریا میں آمد کا ذکر اخبارات میں آیا تو مکرم نسیم سیفی صاحب نے نائیجیریا ہائی کونسل کو جو ڈاکٹر گراہم کی تقاریر کا انتظام کر رہی ہے لکھا کہ اگر ممکن ہوتو اس موقعہ پر نائیجیریا کے مسلمان لیڈروں سے ڈاکٹر گراہم کی ملاقات کرائی جائے مزید برآں اگر مسلمان مشنریوں اور ڈاکٹر گراہم کے