تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 641 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 641

تاریخ احمدیت 641 جلد 21 پیدا کر دئیے گئے۔مجھے مکرم جناب شیخ امری عبیدی صاحب نے بتایا کہ ایک بہت قابل اور مشہور روسی لیڈر پروفیسر پوٹوخن صاحب جو ماسکو میں ڈائریکٹر آف افریقن انسٹی ٹیوٹ آف رشیا ہیں اور 35 برس سے براعظم افریقہ کے حالات کا مطالعہ کر رہے ہیں۔دورہ پر تنزانیہ آئے ہوئے ہیں۔یہ خبر پا کر میرے دل میں انہیں ملنے اور پیغام تو حید پہنچانے کی شدید خواہش پیدا ہوئی۔آخر کار ایک روز وہ اپنے سیاسی دورہ پر ہمارے شہر بو را بھی پہنچ گئے۔خبر پاتے ہی میں انہیں ملنے ہوٹل پہنچا تو مجھے بتایا گیا کہ وہ ٹاؤن کو نسلر مسٹر ہنس راج (ہندو) کے ساتھ ان کی کار میں ابھی ہوٹل سے کہیں چلے گئے ہیں۔میں سائیکل پر مسٹر ہنس راج کے مکان پر پہنچا وہاں بھی انہیں موجود نہ پایا۔دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ ٹانگانیکا افریقن نیشنل یونین ( واحد حکمران سیاسی جماعت) کے دفاتر کے عقب میں پرائیویٹ احاطہ کے اندر ایک اجتماع کو خطاب کرنے گئے ہوئے ہیں یہ عاجز بھی سائیکل پر وہیں پہنچ گیا۔حاضرین کی اکثریت سے عاجز کا کسی نہ کسی رنگ میں تعلق یا تعارف تھا۔اس لئے منتظمین نے سلسلہ عالیہ احمدیہ کے اس ناچیز خادم کو مجلس میں جگہ دے دی۔اب مجلس میں صرف تین غیر ملکی تھے۔روسی پروفیسر جو لیکچر دے رہے تھے کونسلر ہنس راج ہندو دکاندار ) جو تر جمان کے فرائض ادا کر رہے تھے اور سامعین میں یہ عاجز۔افریقیوں میں زیادہ تعداد سیاسی لیڈروں کی تھی۔کچھ پادری بھی عام لباس میں وہاں موجود تھے۔میں بیٹھا خدا تعالیٰ کے حضور دعا کرتا رہا کہ اس روی لیڈ رتک پیغام حق پہنچانے کا موقع کسی نہ کسی طرح میسر آ جائے۔خدا تعالیٰ کی قدرتیں عجیب ہیں۔تقریر انگریزی زبان میں جاری تھی جس کا ترجمہ سواحیلی زبان میں مسٹر ہنس راج کر رہے تھے۔میرے پہنچنے کے بعد مسٹر ہنس راج نے ترجمانی میں غلطیاں شروع کر دیں۔انسانی قلوب اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔جو نہی ترجمان کوئی غلطی کرتا انگریزی جاننے والے افریقن سب میری طرف دیکھنے لگ جاتے۔حالانکہ میں سٹیج پر نہیں بلکہ مجلس کے پیچھے ایک طرف بیٹھا تھا۔میں سارا نظارہ دیکھتا رہا انجام کار ترجمان نے ایک لفظ کا سواحیلی زبان میں ترجمہ نہ کر سکنے کے باعث خود ہاتھ سے میری طرف اشارہ کر کے مجھے ترجمانی کے فرائض ادا کرنے کی دعوت دے دی اور خاکسار مجلس کے پیچھے سے اٹھ کر سٹیج پر پہنچ گیا اور ترجمانی کے فرائض سر انجام دینے لگا۔تقریر کے بعد سوالات کا موقع دیا گیا۔پروفیسر صاحب سیاستدانوں کی طرح ہر سوال کا جواب گول مول دیتے تھے۔لوگوں نے پھر میری طرف دیکھنا شروع کیا گویا کہ وہ بزبان حال مجھ سے سوالات کرنے کی درخواست کر رہے تھے۔اس پر میں نے پروفیسر صاحب سے سوال کرنے کی اجازت چاہی۔میں نے ان سے چند سوالات کئے جو یوں تھے۔