تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 642 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 642

تاریخ احمدیت 642 جلد 21 سوال: کیا روس میں مذہبی آزادی ہے؟ جواب : جی ہاں۔روس میں مسجدیں بھی ہیں گرجے بھی ہیں لوگ ان میں عبادت کرتے ہیں۔سوال: جس طرح آپ ہمارے درمیان اپنے خیالات آزادی سے پھیلا رہے ہیں کیا روس میں مساجد اور گرجوں سے باہر عیسائیوں اور مسلمانوں کو اپنے خیالات کی اشاعت کی اجازت ہے؟ جواب نہیں۔سوال: کیا روس جانے کے لئے آپ مجھے اجازت نامہ دلوا سکتے ہیں؟ جواب: اس کا جواب صرف ہما را روسی سفارتخانہ ہی دے سکتا ہے۔ازاں بعد مجلس برخواست ہوگئی اور میں نے معزز مہمان مسٹر پوٹوشن صاحب کی خدمت میں درخواست کی کہ وہ کل ساڑھے چار بجے دوپہر میرے ساتھ احمد یہ مشن کے دفتر میں چائے نوش فرما ئیں اور نصف گھنٹہ ملاقات کا موقع دیں۔انہوں نے مسٹر میڈینگے (Madenge) کی طرف ہاتھ کر کے (جواس وقت جلسہ کے صدر تھے۔پروفشنل سیاسی جماعت کے سیکرٹری تھے ) فرمایا کہ میں آپ کی دعوت کو ضرور قبول کرتا لیکن مجھے افسوس ہے کہ میرے پاس وقت نہیں اور میرا سارا پروگرام ان کے ہاتھ میں ہے ان کے منہ سے یہ آخری فقرہ نکلا ہی تھا کہ صاحب صدر نے اپنی جیب سے پروگرام نکال کر میز پر رکھ دیا اور اس پر غور کرنے لگے چندلمحات بعد انہوں نے معز ز روسی مہمان کو مخاطب کر کے فرمایا کہ کل بعد دو پہر دو بجے ہم چیف عبد اللہ سعیدی ( فونڈی کیرا) وزیر انصاف سے ملنے جارہے ہیں۔وہاں سے نصف گھنٹہ پہلے آجائیں گے اور شیخ احمدی کے ہاں چائے پینے چلے جائیں گے چنانچہ پروفیسر صاحب نے خاکسار کی دعوت عصرانہ کو قبول کر لیا۔میں نے چند انگریزی جاننے والوں کو بھی اس دعوت میں مدعو کر لیا۔لیکن ہما را قا در خدا بڑی قدرتوں کا مالک ہے وہ جانتا ہے کہ نصف گھنٹے میں ایک احمدی کی پیاس دعوت الی اللہ نہیں بجھ سکتی اس نے کسی حد تک میری اس روحانی پیاس بھجانے کا عجیب سامان پیدا فرمایا۔وہ مہمان جنہوں نے ساڑھے چار بجے آنا تھا پورے اڑھائی بجے میرے دفتر پہنچ گئے۔نہ چائے تیار تھی نہ ہی کوئی احمدی دوست سوائے مکرم چوہدری رشید احمد صاحب سرور کے میرے پاس موجود تھا۔ہم دونوں نے بڑھ کر معزز مہمانوں کا استقبال کیا۔روسی پروفیسر صاحب کے ساتھ وہی ہندو دکاندار اور ٹانگانیکا افریقن نیشنل یونین کے جنرل سیکرٹری مسٹر میڈ ینگے اور ایک حکومت کی طرف سے پروٹوکول کے افسر، یہ چار افراد تھے۔میں نے سواحیلی زبان میں مسٹر میڈ ینگے سے مقرر وقت سے دو گھنٹے قبل تشریف آوری کی وجہ دریافت کی۔تو انہوں نے ہنس کر مجھے جواب دیا میرا جی بھی آپ کی گفتگو سنے کو چاہتا تھا اور خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ وزیر انصاف کے ہاں جانے سے قبل احتیاطاً میں نے انہیں