تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 621
تاریخ احمدیت 621 جلد 21 4 - مكرم بشیر احمد صاحب رفیق نے حضرت صاحبزادہ عبداللطیف شہید کے بارہ میں 200 صفحات پر مشتمل ایک کتابچہ جومشن کی طرف سے شائع ہوا۔چوہدری سر محمد ظفر اللہ صاحب کا ایک کتابچہ حضرت مسیح نے صلیب سے کیسے نجات پائی ایک ہزار کی تعداد میں شائع ہوا۔مشن نے ایک احمدی ڈاکٹر عمر سلیمان کا کتابچہ بھی شائع کیا۔14افراد نے بیعت کی۔انہی دنوں ونڈرز ورتھ میں ایک عشائیہ کی تقریب منعقد ہوئی جس میں مسجد لندن نے متعدد حاضرین کو پیغام اسلام پہنچایا نیز تر کی سفارت خانہ کے ثقافتی اٹاچی اور سعودی عرب کے افسر کو جماعت احمدیہ کی خدمات سے آگاہ کیا۔عرصہ رپورٹ کا نہایت اہم واقعہ یارک شائر (York Shire) کا تبلیغی دورہ ہے جس کے دوران امام مسجد لندن چوہدری رحمت خاں صاحب اور نائب امام بشیر احمد خاں صاحب رفیق بریڈ فورڈ تشریف لے گئے اور شہر میں مقیم احمدی دوستوں میں برکات تنظیم پر روشنی ڈالی بعد ازاں انتخاب کرایا۔بریڈ فورڈ کے پہلے پریذیڈنٹ چوہدری منصور احمد صاحب مقرر ہوئے لندن سے باہر یہ انگلستان کی پہلی جماعت تھی جس کا باقاعدہ قیام عمل میں آیا اسی جماعت کے ساتھ شہر لیڈز (Leeds) کو بھی منسلک کیا گیا۔جماعت بریڈ فورڈ کے ہفتہ وارا جلاسوں کا سلسلہ چوہدری منصور احمد صاحب ہی کے مکان پر شروع ہو گیا اور یہ فعال جماعت جلد جلد ترقی کرنے لگی۔مکرم امام صاحب بعض احمدی خاندانوں کے گھر پر گئے جن میں مکرم عبد الحمید خان صاحب مرحوم 336 آف کپورتھلہ کا خاندان بھی شامل ہے۔مورخہ 30 جون کو جماعت ساؤتھ ہال نے پبلک جلسہ کا اہتمام کیا۔ساؤتھ ہال لنڈن سے دس بارہ میل دور ہے اور اب لندن کا ایک حصہ بن چکا ہے یہاں خدا تعالیٰ کے فضل سے پچاس کے قریب احمدی دوست رہتے ہیں پچھلے سال جب مکرم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب وکیل اعلی لندن تشریف لائے تھے تو آپ یہاں بھی تشریف لے گئے آپ نے جماعت سے ملاقات کی اور مکرم امام صاحب کو ہدایت کی کہ ساؤتھ ہال کے احباب کی تنظیم کی جائے چنانچہ وہاں انتخاب کرایا گیا اور جماعت ساؤتھ ہال کا قیام عمل میں لایا گیا۔ان کے سابق پریذیڈنٹ مکرم راجہ بشیر احمد صاحب مظفر First President of First Jamaat (local) of England نے نہایت تندہی سے جماعت کو مضبوط بنیادوں پر قائم کیا ہے۔آج کل صدر مکرم کیپٹن محمد حسین صاحب چیمہ ہیں۔30 جون کو ساؤتھ ہال کے ایک پبلک جلسہ سے امام مسجد لندن اور نائب امام نے خطاب فرمایا۔