تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 608
تاریخ احمدیت 608 جلد 21 1947 ء اور 1953ء کے واقعات میں حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کی ریڈ کلف ایوارڈ کے سامنے مسلمانوں کے موقف کی مدلل اور کامیاب ترجمانی اور تحقیقاتی عدالت 1953ء میں آپ کے اس جرات مندانہ بیان کا ذکر آچکا ہے کہ آپ نے یقین و بصیرت سے لبریز الفاظ میں فاضل جج صاحبان کو بتایا کہ جماعت احمدیہ اور چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کے خلاف مطالبات بعض سیاسی طالع آزماؤں نے سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے کئے تھے۔احمدیوں کو ہرگز اقلیت نہیں قرار دینا چاہیے نہ چوہدری محمد ظفر اللہ خاں کو وزارت خارجہ سے ہٹایا جائے۔800 جناب ڈاکٹر عبدالسلام خورشید۔ولادت 1919 ء ، وفات۔سابق صدر شعبہ صحافت پنجاب یونیورسٹی تحریر فرماتے ہیں حمید نظامی ان صحافیوں میں شامل تھے جو محض عوام کی ترجمانی کے نہیں بلکہ رہنمائی کے بھی قائل تھے چنانچہ بعض اوقات وہ رائے عامہ سے بھڑ بھی گئے۔چنانچہ 1953 ء کی اینٹی احمد یہ ایجی ٹیشن میں انہوں نے غیر جانب داری کی روش اختیار کی کیونکہ وہ احمدیوں کو اقلیت قرار دینے کی حمایت نہیں کرتے تھے۔جناب حمید نظامی چونکہ حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب کی عظیم الشان ملی خدمات جلیلہ کے عینی شاہد ہونے کی حیثیت سے ہمیشہ زبر دست مداح تھے۔آپ نے پاکستانی صحافت کے مندوب کی حیثیت سے 11, 12, 13 مئی 1954 ء کو منعقدہ و یا نا اسمبلی میں شرکت فرمائی۔آپ کی مطبوعہ ڈائری میں لکھا ہے۔11 مئی 1954 ء کو صبح سوا آٹھ بجے ہوائی جہاز پیرس سے اڑا اور پونے گیارہ بجے میونخ پہنچا۔یہ وہی شہر ہے جہاں چیمبرلین نے جرمنوں سے معاہدہ کیا تھا۔جنگ میں اتحادیوں نے میونخ کی ایٹ سے اینٹ بجادی تھی۔آج بھی چاروں طرف تباہی ہی تباہی نظر آتی ہے۔جہاز میں ایک نصرانی اور یہودی لڑکے سے ملاقات ہوئی۔جو سولہ برس پہلے نازیوں کے ظلم وستم کی داستان بیان کرنے لگے۔مذکورہ بالا یہودی کوئی عالم تھا اور سیاسی آدمی تھا چوہدری ظفر اللہ خاں کی سخت مذمت کرتا تھا مگر ان کی قابلیت کا بے حد مداح تھا۔وی آنا ( 11 مئی 1954 ء ) پہنچ گئے۔ہوٹل پہنچ کر سامان رکھتے ہی ایک خط محمودہ ( بیوی کو ) اور تین چھوٹے چھوٹے خط شیمی (شعیب) کا کو ( عارف ) اور گوگو (سارہ) کے نام لکھے۔حامد کو بھی اپنی خیریت کی اطلاع دی۔پھر ایک ریستوران میں چائے پی اور اسمبلی کے اجلاس میں پہنچا۔کوئی ایک سو کے قریب ایڈیٹر دنیا کے ہیں ملکوں سے جمع تھے۔