تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 589 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 589

تاریخ احمدیت 589 جلد 21 حکومت جموں وکشمیر کے زیر عتاب بھی آجاتے۔خفیہ پولیس کی کڑی نگرانی بھی ہم پر رہتی مگر خلیفہ صاحب مرحوم ان امور کو کبھی خاطر میں نہ لاتے۔حالانکہ وہ حکومت جموں وکشمیر کے اہم عہدوں پر فائز رہے اور عموماً سرکاری عہدیدار ایسے ناگوار حالات میں میل ملاقات سے گریز کرتے ہیں۔ریاست جموں وکشمیر میں ذبیحہ گاؤ کی سزا بہت سخت تھی جب بعض ہند ولیڈروں اور اخبارات نے گائے کے احترام کے سوال پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی تو اخبار ” اصلاح میں اس موضوع پر متعدد مضامین شائع ہوئے حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے مہاشہ محمد عمر صاحب اور مہاشہ فضل حسین صاحب کو سرینگر بھجوایا۔مہاشہ محمد عمر صاحب کے جو مضامین اصلاح میں شائع ہوئے ان میں ویدوں اور شاستروں کی مدد سے گاؤ خوری کو جائز ثابت کیا گیا اس سے جہاں مسلمانوں میں مسرت کی لہر دوڑ گئی۔وہاں ہندو پریس میں صف ماتم بچھ گئی اور ہندوؤں کی طرف سے برملا مطالبہ ہونے لگا کہ کارکنان اصلاح کے خلاف حکومت فوری اقدام کرے اس زمانہ میں سر گوپال سوامی آئنگر جیسا کٹر مہا سبھائی ریاست کا وزیر اعظم تھا۔سرینگر میں مسلمانوں کے احتجاجی جلوس پر لاٹھی چارج کے بعد گولیاں برسائی گئیں۔مسلمانوں کی لاشیں اور زخمی جامع مسجد میں جمع کئے گئے تھے۔ایسے نازک وقت میں بڑے بڑے دلیر گھبرا گئے تھے مگر خلیفہ صاحب مرحوم نے اسوقت بھی اپنے تعلقات میں فرق نہ آنے دیا۔حالانکہ اخبار اصلاح کو حکومت بلیک لسٹ کر کے مزید اقدام کے متعلق سوچ رہی تھی۔سرینگر اور جموں کی احمد یہ بیوت الذکر کی بنیاد میں خلیفہ صاحب کا نمایاں حصہ تھا سرینگر میں بیت احمد یہ کے لئے زمین دینے کا حکم راجہ پرتاپ سنگھ نے دیا تھا مگر کسی مناسب زمین کی منظوری نہ ہوسکی مولوی عبدالواحد صاحب ایڈیٹر اصلاح نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی خدمت میں حالات عرض کئے حضور نے چوہدری اسد اللہ خاں صاحب کی زیر سر کر دگی ایک وفد وزیر اعظم صاحب ریاست جموں و کشمیر کے پاس بمقام جموں بھیجا کیونکہ سردیوں کے باعث دربار و دفاتر جموں آئے ہوئے تھے۔وزیر اعظم صاحب نے چوہدری صاحب کی گفتگو سے یہ محسوس کیا کہ یہ بڑا ظلم ہے کہ احمد یہ بیت الذکر سرینگر کے لئے زمین دیئے جانے کا حکم تو آنجہانی مہاراجہ پرتاپ سنگھ کے زمانہ سے ہو چکا ہے۔مگر کسی مخصوص رقبہ کا قبضہ نہیں دیا گیا چنانچہ انہوں نے گورنر صاحب کشمیر کو حکم دیا کہ زمین تجویز کر کے فورا قبضہ دیا جائے۔یہ حکم