تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 566
تاریخ احمدیت 566 جلد 21 اس سال بھی ذکر حبیب کے موضوع پر مسبوط اور ایمان افروز مقالہ تحریر فرمایا جسے اختتامی اجلاس کے ابتدا میں مولانا جلال الدین صاحب شمس ناظر اصلاح و ارشاد نے نہایت پر شوکت انداز میں پڑھ کر سنایا اس تقریر کا سلسلہ قریباً دو گھنٹے جاری رہا۔احباب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت طیبہ کو نہایت درجہ محویت کے عالم میں بیٹھے سنتے اور سر دھنتے رہے اور فضا پُر جوش اسلامی نعروں سے گونجتی رہی۔آخر میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے حضور کا اختتامی پیغام پڑھنے کے بعد احباب کو ایک مختصر دعائیہ خطاب سے نوازا اور اثر و جذب میں ڈوبی ہوئی پر سوز اور لمبی دعا کرائی۔دیگر اہم کوائف احباب نے جلسہ کے مبارک ایام میں اپنے مقدس امام کے روح پرور پیغامات اور اہم دینی وعلمی موضوعات پر علمائے سلسلہ کی ایمان افروز تقاریر سنیں اور راتیں بیداری اور اللہ تعالیٰ کے حضور آہ وزاری میں بسر کیں۔مسجد مبارک میں ہر شب با قاعدگی اور التزام کے ساتھ باجماعت نماز تہجد ادا کی گئی۔نماز تہجد کے بعد مولانا جلال الدین صاحب شمس قرآن مجید کا درس دیتے رہے۔آخری روز صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جذبہ عشق سے سرشار ہو کر نہایت ایمان افروز روایات بیان فرمائیں۔روزانہ احباب درس سے ہونے کے بعد جوق در جوق مقبرہ بہشتی جا کر حضرت اماں جان نور اللہ مرقدھا کے مزار مقدس اور دوسرے بزرگان سلسلہ کی قبروں پر دعائیں کرتے رہے۔مستفیض جلسہ کے مقررہ اجلاسوں کے علاوہ شب کو بھی دو اہم اجلاسوں کا انعقاد عمل میں آیا۔( 1 ) 26 دسمبر کی شب کو دنیا کی پچاس زبانوں میں تحریک جدید کے مقصد پر تقاریر ہوئیں جس کے آخر میں حضور کی اس تقریر کا ریکارڈ بھی سنایا گیا جو حضور نے تحریک جدید کی اہمیت پر 1954ء کے جلسہ سالانہ پر فرمائی تھی۔(2) 28 دسمبر کی شب کو غیر ملکی طلبہ اور متعدد بیرونی ممالک میں فریضہ تبلیغ بجالانے والے مجاہدین نے اشاعت اسلام کے ایمان افروز حالات سنائے۔ایک معزز غیر احمدی مبصر کی رپورٹ اس جلسہ میں غیر احمدی معززین کی کثیر تعداد نے شرکت فرمائی اور بہت متاثر ہوئے مثلاً سرگودھا کے جناب محمد اکرم خاں صاحب نے ہفت روزہ رسالہ لاہور کے نام ایک مکتوب میں تحریر فرمایا :- جناب مدیر لاہور ہدیہ تسلیمات! میں آپ کی خدمت میں اپنا ایک مشاہدہ بھجوا رہا ہوں۔امید ہے آپ اسے لاہور میں شائع کر کے ان غلط فہمیوں کا ازالہ کر دیں گے جو ہمارے ( اپنی فطرت سے مجبور ) علماء سوء اسلام کی ایک فدائی جماعت کے متعلق آئے دن پھیلاتے رہے۔