تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 559
تاریخ احمدیت 559 جلد 21 اجتماع میں شامل ہونے کی توفیق بخشی۔میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ اپنے فضل سے آپ لوگوں کا یہاں آنا مبارک کرے اور جس مقصد کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس جلسہ کی بنیا د رکھی ہے۔اس کو پورا کرنے کی آپ کو تو فیق عطا فرمائے۔آپ لوگ یا درکھیں ہمارا یہ جلسہ دنیوی جلسوں کا رنگ نہیں رکھتا بلکہ خالص دینی مقاصد کو ترقی دینے اور باہمی اخوت اور محبت بڑھانے کے لئے اس کی بنیاد رکھی گئی ہے۔اس لئے ان ایام کو ضائع نہ کریں بلکہ ان سے ایسے رنگ میں فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں کہ جب آپ جائیں تو آپ اپنے دلوں میں محسوس کریں کہ آپ کے ایمان اور آپ کے اخلاص اور آپ کے علم اور آپ کے عمل میں ایک نمایاں ترقی ہوئی ہے اور آپ کی روحانیت اور باطنی پاکیزگی میں اضافہ ہوا ہے۔اگر آپ اس جلسہ سے یہ فائدہ اٹھا لیں تو آپ کا میاب ہو گئے اور اگر آپ اپنے اندر کوئی تغیر محسوس نہ کریں تو آپ کو اپنے اعمال کا محاسبہ کرنا چاہیے۔رسول کریم ﷺ نے تو یہاں تک فرمایا ہے کہ جس شخص کے دو دن بھی نیکی کے لحاظ سے برابر رہے وہ گھاٹے میں رہا۔آپ کے لئے تو جلسہ کے تین دن رکھے گئے ہیں۔اگر ان تین دنوں میں بھی آپ کے اندر کوئی تغیر پیدا نہ ہوا تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ آپ کتنے بڑے گھاٹے میں رہیں گے۔پس یہ ایام بہت زیادہ فکر کے ساتھ بسر کریں۔اور اٹھتے بیٹھتے دعاؤں اور ذکر الہی پر زور دیں۔تقریروں سے فائدہ اٹھائیں اور سلسلہ کی ضروریات کا علم حاصل کر کے ان میں حصہ لینے کی کوشش کریں۔مجھے افسوس ہے کہ میں بیماری کی وجہ سے جلسہ میں شامل نہ ہو سکا لیکن میرا یہ پیغام ہے جو آپ لوگ یا درکھیں کہ دنیا کی نجات اس وقت آپ لوگوں سے وابستہ ہے اس لئے اشاعت اسلام اور اشاعت احمدیت کی ہمیشہ کوشش کرتے رہیں اور اپنے نمونہ سے لوگوں کے دلوں کو احمدیت کی طرف مائل کریں۔جس طرح ہر مغز اپنے ساتھ ایک قشر رکھتا ہے اسی طرح اشاعت اسلام کا کام بھی جہاں ضروری جد و جہد سے تعلق رکھتا ہے۔جو اس کا ایک جسم ہے وہاں اس کا مغز اور اس کی روح وہ اخلاص اور تبتل الی اللہ ہے جو ایک سچے مومن کے اندر پایا جاتا ہے اور جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی تائید آسمان سے نازل ہوتی ہے جس طرح قربانیوں کا گوشت اور خون خدا تعالیٰ کو نہیں پہنچتا بلکہ دل کا اخلاص اور تقویٰ خدا تعالیٰ تک پہنچتا ہے۔اسی طرح صرف ظاہری جد و جہد خدا تعالیٰ کے حضور مقبول نہیں ہوتی بلکہ وہ جد و جہد مقبول ہوتی ہے جس میں تقویٰ اور اخلاص اور روحانیت کی چاشنی بھی موجود ہو اور جس شخص کے اندر سچا اخلاص اور تقویٰ پایا جائے اس کے جوارح پر بھی اس کا اثر