تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 558
تاریخ احمدیت 558 جلد 21 جلسہ سالانہ ربوہ 182 جلسہ سالانہ قادیان کے چند روز بعد دارالہجرت ربوہ کی مبارک سرزمین میں 26-27-28 دسمبر 1962 کو نہایت درجہ کامیاب جلسہ سالانہ منعقد ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جلسہ کی نسبت پیشگوئی فرمائی تھی کہ خدا نے اس کے لئے قو میں تیار کی ہیں جو عنقریب اس میں آملیں گی کیونکہ یہ اس قادر کا فعل ہے جس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں۔اس خدائی وعدہ کا ایک بار پھر شاندار ظہور ہوا اور ربوہ کی بستی نوے ہزار فدائیوں سے معمور ہو کر ذوق وشوق، انابت الی اللہ کا پر کیف منظر پیش کرنے لگی۔اس جلسہ میں مشرقی و مغربی پاکستان کے علاوہ کویت، عمان، مشرقی افریقہ، ماریشس ، سیرالیون، جرمنی ، سکینڈے نیویا اور انگلستان کے مخلصین نے شمولیت کی سعادت حاصل کی۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب بھی جلسہ کی برکات سے بہرہ افروز ہوئے۔الغرض یہ ان قوموں کا ایک نمائندہ اجتماع تھا جنہیں خدا تعالیٰ دنیا کے دور دراز علاقوں میں شامل سلسلہ ہونے کے لئے تیار کر رہا ہے۔اگر چہ سیدنا حضرت مصلح موعود علالت طبع کے باعث بنفس نفیس تشریف نہ لا سکے حضور نے نہایت ایمان افروز افتتاحی اور اختتامی خطاب لکھوا کر ارسال فرمائے جنہیں حضور کی زیر ہدایت حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے پہلے اور آخری اجلاس میں نہایت پر درد آواز میں پڑھ کر سنایا جسے سنتے ہوئے فضا بار بار نعرہ ہائے تکبیر، حضرت فضل عمر زندہ با داور احمد بیت زندہ باد کے نعروں سے گونجتی رہی۔امام حمام کے روح پرور پیغامات حضور کے دونوں پیغامات ذیل میں قلمبند کئے جاتے ہیں:۔افتتاحی پیغام اعوذ بالله من الشيطان الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم نحمده و نصلى على رسوله الكريم خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هو الــنــاصــر برادران جماعت احمدیہ! السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے اس نے ہمیں اپنی زندگیوں میں ایک بار پھر آپس میں ملنے اور اپنے ذکر کو بلند کرنے کے لئے اس