تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 526
تاریخ احمدیت 526 جلد 21 اپنی تمام نحوستوں کے ساتھ بھاگ جائے اور اسلام ساری دنیا میں پھیل جائے اور دنیا میں صرف محمد رسول اللہ کی حکومت ہو۔اس کام کی طرف میں آپ کو بلاتا ہوں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ من انصاری الی اللہ تحریک جدید کے نئے سال کا بھی اعلان کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ آپ سب کو قربانیوں کی توفیق دے۔آمین اللهم آ خاکسار مرز امحمود احمد خلیفہ اسیح الثانی - 10 نصرت ہائر سیکنڈری سکول کی افتتاحی تقریب آمین۔129اکتوبر 1962 ء کو نصرت ہائر سیکنڈری سکول ربوہ کا افتتاح عمل میں آیا اور جامعہ نصرت اور نصرت گرلز ہائی سکول کا حصہ ایف اے اور حصہ میٹرک مستقل صورت میں ہائر سیکنڈری درسگاہ کے طور پر قائم ہو گیا۔اس موقع پر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اپنے ایک خصوصی پیغام میں ارشاد فرمایا کہ۔جماعتی بچیوں کی تعلیم کا سوال بے حد اہم ہے اور ہمارے آقا آنحضرت ﷺ نے اپنے متعدد ارشادات میں اس کی اہمیت کی طرف توجہ دلائی ہے۔پس اب جبکہ دونوں درسگا ہیں ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہیں اس کی استانیوں اور طالبات دونوں کو چاہیئے کہ پوری محنت اور عزم اور استقلال کے ساتھ اس نئے دور کو شروع کریں اور اپنی کوششوں کے ذریعہ خدا تعالیٰ کا فضل چاہتے ہوئے اس درسگاہ کو ایک مثالی درسگاہ بناد میں جو تعلیم کے لحاظ سے بھی مثالی ہو اور تربیت کے لحاظ سے بھی مثالی ہو اور نتائج کے لحاظ سے بھی مثالی ہو اور نظم و ضبط کے لحاظ سے بھی مثالی ہو اور اخلاقی ماحول کے لحاظ سے بھی مثالی ہو۔یہ تو ظاہر ہے کہ پڑھانے والیوں اور پڑھنے والیوں میں بہت گہرا رابطہ قائم ہونا چاہیے تا کہ وہ ایک خاندان کے طور پر زندگی گزاریں۔پڑھانے والیاں ہر لحاظ سے پڑھنے والیوں کے لئے نمونہ بنیں اور پڑھنے والیاں اس ذوق اور شوق کے ساتھ کام کریں جو اعلی ترقی تک پہنچنے کے لئے ضروری ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر کسی قوم کی عورتوں میں بیداری اور حقیقی ترقی کے آثار پیدا ہو جائیں اور وہ ماحول کے بداثرات سے بچ کر رہیں تو عورتیں ملک وقوم کی ترقی میں بڑا اثر پیدا کر سکتی ہیں۔آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں بعض نیک اور خادم دین عورتوں نے حیرت انگیز کارنامے سر انجام دیئے ہیں۔مثلاً آنحضرت ﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ صدیقہ اور حضرت ام سلمی کے نام نامی کو کون نہیں جانتا۔ان بزرگ خواتین نے اپنی عقل و دانش کے ذریعہ امت کی بعض ایسی گتھیاں سلجھائی ہیں جن میں مردوں کی عقل نا کام ہو کر رہ گئی تھی۔یہی مواقع آپ کے لئے بھی میسر ہیں بشرطیکہ آپ اپنے علم وعمل کو اس معیار تک پہنچا دیں جو قوموں کی زندگی میں انقلاب پیدا کر دیا کرتا ہے۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو اور خدا کرے کہ آپ قیامت کے دن ایسی ثابت