تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 514
تاریخ احمدیت 514 پیدا ہونے والے ایک امی نے علوم کے دریا بہا دئے ہیں۔پھر حضرت مسیح موعود کی کتب اور ملفوظات ہیں جو ایک عمدہ اسفنج کے ٹکڑے کی طرح علم کے شہد سے بھر پور ہیں۔اور ان میں اس زمانے کی بیماریوں کا مکمل علاج ودیعت کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ حضرت خلیفۃ امسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی کتب اور خطبات ہیں جنہیں پڑھ کر غیر متعصب دشمن بھی عش عش کر اٹھتا ہے۔مگر میں کہتا ہوں کہ علم تو ایسی چیز ہے کہ جہاں بھی کوئی حکمت اور دانائی کی بات ملے اور اس میں کوئی دھو کہ یا ملمع سازی کا پہلو پوشیدہ نہ ہو تو اُسے بھی شوق کے ساتھ قبول کرنا چاہیے۔ہمارے آقا حضرت سرور کائنات (فدان فسی ) کا کتنا پیارا قول ہے کہ کلمة الحكمة ضالة المومن اخذها حيث وجدها یعنی حکمت اور دانائی کی بات مومن کی اپنی ہی کھوئی ہوئی چیز ہوتی ہے۔اُسے چاہیئے کہ جہاں بھی ایسی بات پائے اُسے لے لے۔“ اس تعلق میں میں صدر صاحب خدام الاحمدیہ کو بھی یہ نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ جہاں تک ممکن ہو وہ پاکستان کے ہر ضلع میں خدام الاحمدیہ کے انتظام کے ماتحت دینی کتب کا سال وار یا ششماہی امتحان لیا کریں جس میں قرآن مجید اور حدیث اور کتب سلسلہ میں سے مناسب نصاب مقرر کیا جائے اور ملک کے مختلف حصوں میں سوالات کے پرچے بھجوا کر امتحان کا انتظام کیا جائے۔اور کوشش کی جائے کہ سوائے کسی جائز عذر کے کوئی خادم اس امتحان سے باہر نہ رہے تا کہ خدام کے علم میں بھی ترقی ہو اور یہ علم خدا کے فضل سے ان کے عمل میں بھی اصلاح اور ترقی کا باعث بن جائے۔اور ترغیب و تحریص کی غرض سے اس امتحان میں اوّل دوم اور سوم آنیوالوں کے لئے مناسب انعامات مقرر کئے جائیں جو سالانہ اجتماع کے وقت دئے جائیں۔میں امید کرتا ہوں کے سرسری طور پر نہیں بلکہ اگر اچھی طرح سوچے سمجھے پروگرام کے ماتحت ایسے امتحانوں اور ان کے نصابوں کا انتظام کیا جائے تو نہ صرف نو جوانوں میں علم کا شوق ترقی کریگا بلکہ ان کی قوت عملیہ میں بھی خدا کے فضل سے بہت اضافہ ہوگا۔اور ضمنی طور پر عربی سیکھنے کی طرف بھی کسی قدر توجہ پیدا ہو گی۔جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحقیق کے مطابق تمام زمانوں کی ماں ہے اور اسی لئے قرآن مجید کو جو ساری دنیا اور ساری قوموں کے لئے آیا ہے عربی زبان میں نازل کیا گیا ہے۔" مجھے یہ خوشی ہے کہ اس سال ملک کے مختلف مقامات میں خدام الاحمدیہ کے زیر انتظام جلد 21