تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 468
تاریخ احمدیت 468 جلد 21 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات سے قبل جو احمدی احباب کلکتہ میں موجود تھے وہ مکرم خواجہ غلام نبی صاحب مرحوم کی دوکان میں نمازیں ادا کرتے تھے۔حضرت خلیفہ امسیح اول کے عہد خلافت میں کالج سٹریٹ میں شیخ محمد امین، فضل کریم و حاجی محکم الدین صاحبان مرحوم چمڑے کے سلیپروں کا کاروبار کرتے تھے۔ان تینوں بھائیوں نے بھی جماعت احمدیہ کی بہت مخلصانہ خدمت کی۔فجز اہم اللہ احسن الجزاء۔گوخلافت اولی میں جماعت کی تعداد میں ترقی ہوئی مر با قاعدہ نظام کی صورت پیدا نہ ہوسکی تھی۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی " کے مبارک عہد کے اوائل میں غالباً 1918ء میں مکرم چودھری نواب علی صاحب نے واٹر لوسٹریٹ میں جماعت احمدیہ کی تنظیم قائم کی۔مکرم مولوی عبدالرحیم صاحب کشمیری نے تبلیغ اور تربیت کے سلسلہ میں نمایاں کام کیا اور درس قرآن مجید اور باقاعدہ جلسوں کا اہتمام کیا۔ان ایام میں جن خوش قسمت احباب کو سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہونے کی توفیق حاصل ہوئی ان میں مکرم مولوی لطف الرحمن صاحب۔مکرم حکیم ابوطاہر محمود احمد صاحب۔مکرم ڈاکٹر اُمید علی صاحب اور مکرم میاں محمد صدیق صاحب تاجر بھی شامل تھے۔ان بزرگوں نے اپنے اپنے رنگ میں سلسلہ احمدیہ کی بہت خدمت کی۔اللہ تعالیٰ ان سب کو غریق رحمت کرے اور نیک جزا عطا فرمائے۔آمین۔جماعت احمدیہ کی اپنی کوئی بیت الذکر نہ تھی اس لئے تعمیر بیت الذکر سے پہلے مختلف علاقوں میں ادائیگی نماز اور تبلیغی جلسے منعقد کرنے کا اہتمام ہوتا رہا۔1944ء میں اللہ تعالیٰ نے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی پر منکشف فرمایا کہ آپ ہی مصلح موعود ہیں اور حضور نے قادیان، ہوشیار پور، لاہور، لدھیانہ اور دہلی میں اس نعمت عظمی کا اعلان فرمایا۔دہلی کے جلسہ میں شمولیت کا موقعہ کلکتہ سے وہاں پہنچ کر ہم دونوں بھائیوں، برادرم میاں محمد یعقوب صاحب، عزیزم محمد داؤد صاحب اور اخویم میاں محمد صدیق صاحب وہرہ کو حاصل ہوا۔ہم دونوں بھائی اپنا کاروبار بند کر کے گئے تھے۔قادیان کے قافلہ میں پسران عزیزان منیر احمد ونصیر احمد بھی اس جلسہ میں شمولیت کے لئے آئے تھے۔اس زمانہ میں کلکتہ کے بعض احمدیوں کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ کلکتہ میں جو کہ ایک طرح مشرقی دنیا کا دروازہ ہے۔ایک ایسا ہی جلسہ منعقد کرنے کی اجازت کے لئے عرض کیا جائے۔اس طرح یہ شہر بھی حضور کے قدوم میمنت لزوم سے مشرف ہو جائے گا۔اس سلسلہ میں میری طرف سے یہ تجویز پیش کی گئی کہ حضور کو ایسے دور دراز کے سفر پر آمادہ کرنے کے لئے کسی ایسی تقریب کا سامان کرنا ضروری ہے۔جس سے ہماری اس درخواست میں وزن اور جاذبیت پیدا ہو اور اس کی بہترین صورت یہ ہے کہ کلکتہ میں بیت احمدیہ کی تعمیر کا پروگرام بنایا جائے۔جس کا اپنے مبارک ہاتھوں سے حضور سنگ بنیاد رکھیں یا افتتاح فرما ئیں۔