تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 458
تاریخ احمدیت 458 جلد 21 سے روشناس کروانا اپنا فرض سمجھتی ہوں تا کہ آپ لوگ سمجھ سکیں کہ اس دُور دراز ملک میں بھی احمدیت کی برکت سے وطن کا سا ماحول پیدا ہو گیا تھا۔میں ہالینڈ سے جرمنی تک صرف اپنی اس بچی فوزیہ کے ساتھ تنہا تھی۔جب پلین نے لینڈ کیا تو مجھے قدرتی طور پر گھبراہٹ ہوئی کہ یہاں تو کوئی زبان بھی نہیں سمجھتا ہم ائیر پورٹ تک تنہا ہوں گے وہاں سے کسٹم سے بھی تنہا گزرنا ہوگا۔خیر میں نے فوزیہ سے کہا کہ مسافروں کے پیچھے ہو لیتے ہیں اسی طرح پہنچ جائیں گے۔سیڑھی تک پہنچے اور ابھی دوسری سیڑھی پر قدم رکھا تھا کہ لوگوں نے لپک لپک کر ہمارے ہاتھوں کے سب بوجھ اٹھا لئے حتی کہ ہمارے پاس ہینڈ بیگ بھی نہ رہے اور وہیں ہم پر پھول لاد دیئے گئے۔کم و بیش پانچ چھ آدمی تو وہاں تھے اور باقی ائیر پورٹ پر موجود تھے۔میری ایسی کیفیت ہوئی جو صرف محسوس کی جاسکتی ہے بیان نہیں ہوسکتی۔ہمارے ہمبرگ کے مبلغ مکرمی چوہدری عبد اللطیف صاحب مع دیگر افراد جماعت جن میں پاکستانی و نومسلم جرمن، ایک دو غیر مسلم جرمن موجود تھے۔ان میں مستورات بھی تھیں بچے بھی تھے جو اهلا و سهلا و مرحبا کہہ کہ کر پھول پیش کر رہے تھے۔دیگر مسافرانِ جہاز حیرت سے دیکھنے لگے کہ یہ دو برقعہ پوش گمنام سی معمولی عورتیں کیا چیز نکلیں کہ ایسا شاندار استقبال ان کا ہورہا ہے۔میرا دل تشکر وامتنان کے جذبات سے لبریز تھا۔زبان بند تھی مگر میری آنکھوں میں بے اختیار آنسو بھر رہے تھے۔میں اپنی گھبراہٹ پر اللہ تعالیٰ کے حضور اتنی نادم تھی جس کی انتہا نہیں۔اس وقت میرے دل نے ، میری زبان نے بے اختیار حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر درود بھیجا۔دوسرے دن کے حالات تو آپ لوگوں کو اخبارات سے معلوم ہو گئے ہوں گے صبح سے کیمرہ مین اور پریس کی طرف سے عورتیں انٹرویو کے لئے چلے آ رہے تھے۔سو یہ تھی وہ برکت احمد یہ جس کا تجربہ مجھے اس سفر میں ہوا میں سوچا کرتی ہوں کہ اپنے وطن میں 20 سال ریاضت کر کے بھی میرا ایمان خدا تعالیٰ پر اس پایہ کا نہ ہوتا جتنا اس تین ماہ کے ممالک غیر کے قیام میں ہوا۔پھر تو یہ سلسلہ ہی شروع ہو گیا۔یہاں سے کوپن ہیگن وہاں سے زیورچ میں تنہا ہی گئی۔مگر دل کو تقویت حاصل ہو چکی تھی۔تجربہ نے ثابت کر دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جوتیوں کے صدقہ ہر جگہ بہن بھائی اور بچے موجود ہیں۔لنڈن تو خیر اپنا گھر ہی تھا ما شاء اللہ پاکستان کی طرح جماعت معلوم ہوتی ہے۔ہفتہ پیشتر میری بیماری میں لنڈن کی جماعت نے اتنا خیال رکھا ہے کہ قریبی عزیز اور اپنے لڑ کے بھی نہ رکھ سکتے۔میرے منع کرنے پر بھی وہ لوگ ڈاکٹر پر ڈاکٹر لئے چلے آرہے تھے۔میں نے بہت بھاگنا چاہا مگر انہوں نے نہیں چھوڑ ا جب تک اپنی تسلی نہیں کر لی۔