تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 453
تاریخ احمدیت 453 جلد 21 کسی کی محنت کو ضائع نہیں کرتا آپ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے ہوئے صدق دل سے کوشش کریں۔آپ کو اپنی نیت کا پھل انشاء اللہ ضرور ملے گا مجبوری کی بناء پر ہمارے بچے یہاں کے سکولز میں تعلیم پارہے ہیں۔اس صورت میں آپ پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ماں کا حق بھی آپ کو ادا کرنا ہوگا اور استانی کا بھی۔چھوٹے چھوٹے مسائل، مذہبی غیرت، اپنے سلسلہ کی عظمت، اپنے خلیفہ کی محبت ، نظام کی پابندی کرنا آپ کا فرض ہے۔اتنا تو معمولی تعلیم یافتہ ماں بھی کر سکتی ہے۔جب رات کو آپ کا ننھا سا خاندان یکجا ہو۔اس وقت آپ ایک آدھ روایت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ملفوظات سے ہی سہی ضرور اپنے بچوں کو پڑھ کر سند یا کریں۔حضرت خلیفہ اسی الثانی ایدہ اللہتعالیٰ سے ملاقات کے وقت کا کوئی سا واقعہ سنادیا۔کوئی قادیان کی بات کر دی۔کبھی ربوہ کا ذکر کر دیا۔حضرت خلیفہ امسیح ایدہ اللہ تعالیٰ کی صحت کے لئے دعا کی تحریک کر دی۔جلسہ سالانہ کے ایام میں ان کے سامنے بار باران با برکت ایام کا ذکر کریں۔اپنی محرومی پر افسوس ریں۔ان ایام میں بچوں کے سامنے کثرت سے درود شریف پڑھیں اور اس کی وجہ ان کے ذہن نشین کرا ئیں۔آپ دیکھیں گی کہ ان چھوٹی چھوٹی باتوں سے کیسے شاندار نتائج انشاء اللہ تعالیٰ مرتب ہوں گے۔آپ کے بچے بے شک اس ملک میں تعلیم حاصل کریں۔جائز حد تک تفریحات میں حصہ لیں۔وہ سب کچھ سیکھیں جو اسلام نے جائز قرار دیا ہے۔صرف آپ اتنا دھیان رکھیں کہ وہ اپنی شخصیت نہ کھو دیں۔ان کی نگاہ میں اپنا وقار قائم رہے اور ان کے قلوب پر رعب دجال“ نہ مسلط ہو جائے۔دوسری بات۔جو آپ سے کہنا چاہتی ہوں۔وہ آپس میں محبت واتفاق کے متعلق ہے۔اس دور دراز ملک میں آپ چند نفوس ہیں اگر آپ یکجان ہو کر نہ رہ سکیں تو افسوس نہیں بلکہ شرم کا مقام ہے۔آپ ایک دوسرے کے لئے ماں باپ بہن بھائی سب ہی عزیزوں کا بدل ہیں۔آپ کی آپس میں اخوت و محبت غیر ملکیوں کے لئے ایک قابل رشک نمونہ ہونا چاہیے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک فقرہ یہاں نقل کرنا کافی ہے۔اس سے بڑھ کر میں کیا کہہ سکتی ہوں۔آپ فرماتے ہیں:۔میں دو ہی مسئلے لے کر آیا ہوں اول خدا کی توحید اختیار کرو۔دوسرے آپس میں محبت و ہمدردی ظاہر کرو۔وہ نمونہ دکھلاؤ کہ غیروں کے لئے کرامت ہو۔“ امید ہے میری بہنیں حضور کے اس فقرہ کو مشعل راہ بنا کر سامنے رکھیں گی۔تیسری چیز نظام کی کامل اطاعت ہے ہماری ترقی کا راز نظام ہی میں ہے۔جس نے نظام سے باہر قدم رکھا وہ گیا۔جو آپ کا مقامی امام ہو اس کی اطاعت بھی آپ کا فرض ہے۔بالکل اسی طرح جیسے مقامی امام پر مرکز کی کامل اطاعت واجب ہے۔اصل چیز مرکز سے وابستگی ہے۔مرکز کے ادنیٰ سے ادنیٰ حکم پر آپ