تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 454 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 454

تاریخ احمدیت 454 جلد 21 کو حضور قلب سے لبیک کہنا چاہیے۔خواہ اس میں کیسی قربانی دینی پڑے۔بیعت کے معنی تو آپ کو معلوم ہی ہیں۔پھر بیع شدہ چیز میں دعویٰ ملکیت کیا ؟ اللہ تعالیٰ آپ کا حامی و مددگار ہو۔آپ ہر قدم پر اس کی استقامت طلب کریں پھر انشاء اللہ تعالیٰ 103 وہ آپ کو کبھی ضائع نہ ہونے دے گا۔حضرت بیگم صاحبہ کی خدمت کے لئے مکرم چوہدری عبدالرحمن صاحب نے اپنی کارکو وقف رکھا اور لندن اور گردو نوح میں آپ کو سیر کرائی۔16 اگست کو آپ اپنی صاحبزادیوں اور مرزا مجید احمد صاحب اور مرزا مجیب احمد صاحب کے ساتھ سکاٹ لینڈ تشریف لے گئیں۔اللہ تعالیٰ نے بشیر احمد خان صاحب رفیق نائب امام مسجد لنڈن کو بھی اس سفر میں آپ کی معیت کی سعادت بخشی۔105- 104 اُن دنوں چوہدری رحمت خاں صاحب امام بیت الذکر لنڈن کے فرائض انجام دے رہے تھے۔موصوف نے اپنے ایک مکتوب میں چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ انچارج سوئٹزرلینڈ مشن کو حضرت بیگم صاحبہ کے ورود لنڈن کی اطلاع دی۔یہ خبر اُن کے لئے اتنی غیر متوقع اور خوشکن تھی کہ اس کے سچا ہونے پر انہیں یقین نہ آتا تھا۔انہوں نے فوری طور پر آپ کی خدمت میں بذریعہ تار خوش آمدید عرض کی اور بیت الذکر زیورک کا سنگ بنیاد رکھنے کی درخواست کی جسے آپ نے کمال شفقت ومسرت سے منظور فرمایا اور تحریر فرمایا کہ میں اسے عظیم سعادت سمجھتی ہوں۔بیت الذکر زیورک کی تقریب سنگ بنیاد 25 اگست مقرر تھی جس میں شرکت کیلئے حضرت بیگم صاحبہ 17 اگست کولنڈن سے عازم سوئٹر رلینڈ ہوئیں اور سب سے پہلے ہالینڈ تشریف لے گئیں۔آپ کے ہمراہ آپ کی دونوں صاحبزادیاں اور صاحبزادہ مرزا مجید احمد صاحب بھی تھے۔ایمسٹرڈم کے ہوائی اڈہ پر حافظ قدرت اللہ صاحب امام بیت الذکر ہالینڈ اور صاحبزادہ مرزا مجیب احمد صاحب (ابن صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب) اور دیگر افراد جماعت بھی موجود تھے۔آپ ہالینڈ میں دور روز قیام فرمار ہیں۔آپ نے ہالینڈ کی احمدیہ مسجد میں بھی قدم رنجہ فرمایا اور احمدی مبلغین اور دوسرے احباب کو قیمتی نصائح سے نوازا۔19 اگست کو آپ ہمبرگ (جرمنی) کیلئے روانہ ہوئیں۔100 ہمبرگ کے فضائی مستقر پر مبلغ جرمنی چوہدری عبداللطیف صاحب اور جرمنی کے نو مسلم اصحاب اور مغربی جرمنی میں مقیم احمدیوں نے آپ کا پُر خلوص خیر مقدم کیا اور محبت وعقیدت کے اظہار کے طور پر احتراماً آپ کی خدمت میں پھول پیش کیے۔جرمن اخبارات نے آپ کی آمد کی خبر نمایاں طور پر شائع کی۔چودھری عبداللطیف صاحب کا بیان ہے۔حضرت نواب امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کی تشریف آوری سے جرمن پریس میں اسلام کا