تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 452 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 452

تاریخ احمدیت 452 جلد 21 اڈہ پر آپ کا محبت وعقیدت کیسا تھ استقبال کیا۔آپ کی دوسری صاحبزادی ( بیگم صاحبزادہ مرزا مجید 10 احمد صاحب) اور صاحبزادہ مرزا مجید احمد صاحب جو چند دن قبل غانا سے لنڈن پہنچے تھے ایئر پورٹ پر موجود تھے۔آپ کا قیام محترم عبد العزیز دین صاحب کے ہاں تھا۔5 اگست کو لجنہ اماء اللہ لندن نے آپ کے اعزاز میں ایک عصرانہ کا انتظام کیا۔جس میں ممبرات لجنہ اور بعض دیگر معزز مسلم خواتین نے بھی شرکت کی۔اس تقریب میں بیگم صاحبہ محترم پروفیسر عبدالسلام صاحب صدر لجنہ نے آپ کی خدمت میں اردو میں ایڈریس پیش کیا جسمیں آپ کی قومی اور دینی خدمات کو سراہا۔اس ایڈریس کا ترجمہ سیکرٹری لجنہ لنڈن محترمہ مسز اصغری نے کیا۔حضرت سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ نے اس موقعہ پر حسب ذیل بصیرت افروز تقریر فرمائی:- دو بسم اللہ الرحمن الرحیم سب سے پہلے تو میں آپ سب بہنوں کا شکریہ ادا کرتی ہوں جنہوں نے نہایت محبت سے اس غیر ملک میں میرا استقبال کیا۔حقیقت ہے مجھے بالکل ایسا معلوم ہورہا ہے۔جیسے اپنے وطن اور اپنے خاندان کے درمیان بیٹھی ہوں مطلقاً اجنبیت یا گھبراہٹ نہیں جزاکم اللہ احسن الجزاء اور یہ سب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طفیل ہے۔ورنہ من آنم کہ من دانم یہ رشتہ جس میں ہم منسلک ہیں ایک روحانی رشتہ ہے جو دنیا کے تمام خونی رشتوں پر فوقیت رکھتا ہے۔اکثر جبکہ یہاں پر متفرق جگہوں پر بکھرے ہوئے دوست تشریف لاتے ہیں تو میرے قلب کی جو کیفیت ہوتی ہے نا قابل بیان ہے۔بے اختیار زبان سے اللهم صلى على محمد وعلى اله وعلى عبده المسيح الموعود نکل جاتا ہے۔ورنہ اس شہر میں کون کسی کو پوچھ سکتا ہے۔جبکہ مصروفیتیں بھی بے حد بڑھی ہوئی ہوں۔مکرمی عزیز صاحب جن کے مکان میں بطور مہمان میں مقیم ہوں۔وہ اس قدر خیال رکھتے ہیں جو اس روحانی رشتہ کے علاوہ نا ممکن تھا اللہ تعالیٰ ان کو بمعہ فیملی دین ودنیا کے نعماء سے نوازے۔امین۔میرا ارادہ تھا کہ اپنی لنڈن میں رہائش رکھنے والی بہنوں کو بعض امور کے متعلق توجہ دلاؤں۔مگر دو روز سے میری طبیعت کافی خراب ہے۔دراصل اپنے میاں مرحوم کے بعد میری صحت بہت ہی غیر مطمئن ہی ہوگئی ہے۔گھڑی میں اچھی گھڑی میں خراب۔میں کوئی پروگرام بنا ہی نہیں سکتی۔تاہم تین مختصر اصول اگر آپ کے ذہن نشین کروا سکوں تو خوش قسمتی سمجھوں گی۔اول۔ہماری بہنوں کو جو مستقل طور پر یہاں آباد ہو گئی ہیں اپنے بچوں کی تربیت کی طرف بہت زیادہ توجہ کرنی چاہئے۔آپ کے راستہ میں بہت سی مشکلات ہیں جن کا مجھے پورا احساس ہے۔مگر اللہ تعالیٰ