تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 451
تاریخ احمدیت 451 جلد 21 ہیں جو کہ صراط مستقیم پر پہنچاتی ہے۔تب آپ لوگوں کو اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کے معنی سمجھاتے اور پھر فرماتے کہ خدا تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا ہے کہ :- إِنَّا أَعْتَدْنَا لِلْكَفِرِينَ سَلْسِلَا وَأَغْلَلاً وَسَعِيرًا o إِنَّ الْإِبْرَارَ يَشْرَبُونَ مِنْ كَأْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُورًاo (سورۃ الدہر آیت 6،5) پھر اس آیت کے معنی سمجھا دیتے۔(4) آپ نے مسجد فضل لندن میں تین سال کے عرصہ میں تقریباً 100 کے قریب لیکچر اور تقاریر کی ہیں۔آپ کی ہمیشہ کوشش ہوتی کہ قرآن پاک کی تعلیم لوگوں تک زیادہ سے زیادہ پہنچا سکیں۔قیام لندن کے دوران میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے اکثر خطوط آتے رہتے تھے۔ان خطوط میں حضرت میاں صاحب مرحوم کی لندن میں تبلیغی و تربیتی سرگرمیوں پر خوشنودی کا اظہار فرماتے تھے اور ساتھ ہی یہ دعا بھی تحریر فرماتے تھے کہ خدا تعالیٰ ان کو اسی رنگ میں ہمیشہ خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔(5) مرحوم ہر گھڑی جماعت احمدیہ کی بہتری، برتری، دینی و اخلاقی ترقیات اخلاص و مروّت کے سلوک، برادرانہ شفقت اور حسن سلوک کے لئے کوشاں رہتے تھے۔کبھی کسی کو آپ سے کوئی شکایت نہیں ہوئی۔قرآن پاک اور کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہر وقت پڑھنے کی عادت تھی۔ہمیشہ قرآن پاک کا درس گھر میں خود دیتے تھے اور ہم سب بھائی بہنوں کو زیادہ سے زیادہ قرآن پاک یاد کرنے کی تلقین کرتے تھے۔آپ جماعتِ احمد یہ ملتان اور جھنگ شہر کے کافی عرصہ صدر رہے ہیں۔لندن میں سیکرٹری تعلیم و تربیت کے عہدہ پر بھی اخلاص اور محنت سے کام کرتے رہے۔100 166 حضرت سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کا با برکت سفر یورپ 1962 ء کا نہایت اہم واقعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی لخت جگر حضرت نواب سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کا با برکت سفر یورپ اور آپ کے ہاتھوں بیت الذکر زیورک کاسنگ بنیاد ہے۔اس مبارک سفر کی تقریب کے غیبی سامان اللہ تعالیٰ نے خود فرمائے۔آپ 25 جولائی 1962ء کی صبح کراچی سے بذریعہ پی آئی اے انگلستان کے لئے روانہ ہوئیں اور اسی دن شام چھ بجے بخیریت لنڈن پہنچ گئیں۔آپ کے ساتھ آپ کی صاحبزادی سیدہ فوزیہ بیگم صاحبہ بھی تھیں۔جماعت احمد یہ لنڈن نے ہوائی