تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 437 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 437

تاریخ احمدیت 437 وو برادران ملتان السلام عليكم ورحمة الله وبركاته مجھے معلوم ہوا ہے کہ ملتان میں جماعت احمد یہ ایک ضلع وارا اجتماع تربیتی نکتہ نگاہ سے منعقد کر رہی ہے اور مجھ سے خواہش کی گئی ہے کہ میں بھی اس موقعہ پر چند نصیحت کے کلمات کہہ کر شرکت کا ثواب حاصل کروں۔سو ہر چند کہ میں کچھ عرصہ سے بیمار اور کمزور ہوں۔مگر ملتان کے قدیم اور تاریخی شہر کی اہمیت کے پیش نظر میں اس مبارک موقعہ کی شرکت سے محروم نہیں رہنا چاہتا اور ذیل میں ایک مختصر سا پیغام بھجوار ہا ہوں۔جیسا کہ سب جانتے ہیں برعظیم پاک و ہند کا وہ خطہ جو سب سے پہلے اسلام کے زیر اثر آیا وہ سندھ کا علاقہ تھا جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ہی مسلمانوں نے اسلام کے نور سے منور کر دیا تھا۔ملتان گویا اسی مبارک علاقہ کا دروازہ ہے۔اسی لئے وہ قدیم زمانہ سے صلحاء کا مولد و مسکن رہا ہے اور اس میں گورستانوں کی کثرت بھی ایک حد تک ای حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔پس اب جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق اسلام پر دینی اور روحانی لحاظ سے کمزوری کا دور آیا ہوا ہے ہمارا فرض ہے کہ اس تاریخی علاقہ کی اصلاح اور ترقی کی طرف خاص توجہ دیں اور دنیا کو بتادیں کہ ہم خدا کے فضل سے احسان فراموش نہیں بلکہ جہاں جہاں سے ہمارے ملک کو ابتدا میں نو ر پہنچا ہے۔ہم اس کی خدمت۔۔۔۔کے لئے ہر طرح آمادہ اور ایستادہ ہیں۔یہ خدمت آپ لوگ دو طرح سے بجا لا سکتے ہیں۔اول اس طرح کہ خود اسلام کی تعلیم کا سچا نمونہ بنیں اور آپ کے چہروں پر اسلام کا نور اس طرح چمکتا ہوا نظر آئے جس طرح کہ ایک صاف اور صیقل شدہ آئینہ میں سورج کا عکس نظر آتا ہے۔صحابہ کرام کی زندگیاں آپ لوگوں کے سامنے ہیں انہوں نے اسلام کی تعلیم کو اس طرح اپنے اندر جذب کیا کہ مجسم نور بن گئے اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگر داس طرح گھومنے لگ گئے۔جس طرح کہ چاند سورج کی شکل اختیار کر کے اس کے ارد گرد گھومتا ہے۔انہوں نے قربانی اور و فاداری کے جذبہ کو انتہاء تک پہنچادیا اور سچ مچ رسول پاک کے ہاتھ پر بک گئے اور نیکی اور اخلاص کا ایسا اعلیٰ نمونہ قائم کیا کہ تاریخ اسکی نظیر لانے سے عاجز ہے۔خدمت کا دوسرا طریق یہ ہے کہ جو حق آپ کو حاصل ہوا ہے اسے دوسروں تک پہنچائیں اور جلد 21