تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 432
تاریخ احمدیت 432 ہم عام مسلمانوں کی اس ذہنیت پر بھی متاسف ہیں کہ احمدیوں کی مسجد بنے پر تو وہ بے حد مشتعل ہو جاتے ہیں۔اگر چہ وہ با قاعدہ طور پر جگہ حاصل کر کے اور متعلقہ ادارے سے نقشه منظور کرا کر ہی بنائی جائے۔لیکن خود عام محلوں ،گلی کو چوں اور سڑکوں پر جہاں جی میں آئے راتوں رات مسجد میں تعمیر کرنے کی سعادت حاصل کرنے کیلئے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے میں بے حد بے باک ہیں اور اس ضمن میں زمین کے مالک سے اجازت لینا اور کسی متعلقہ ادارے سے نقشہ منظور کرانے کا تکلف بھی گوارا نہیں کرتے۔دراصل ہمارے خیال کے مطابق مسلمانوں میں احمدیوں کے خلاف ناگوار حد تک تعصب پھیل گیا ہے اور بعض سستی شہرت حاصل کرنے کے خواہشمند ایسے موقعوں کی تلاش میں رہتے ہیں جس میں حصہ لیکر وہ عوام کی نظروں میں خدا پرست اور اسلام پرست بننے کا شرف حاصل کر سکیں۔یہ مذکورہ مسجد روکنے رکوانے میں بھی ایسے ہی ”خدام ملک وملت کی مساعی بروئے کار آ رہی ہیں ورنہ ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچا جائے تو اس ایک لاکھ کی آبادی کے شہر میں اگر احمدی فرقہ کے لوگوں کو بھی ایک مسجد تعمیر کر لینے دی جائے تو کونسی قیامت آجائے گی۔66 جلد 21 اسی طرح اخبار پیام قائد سرگودھا (21 مئی 1962ء) نے سید اقبال حسین صاحب کرمانی ممبر مجلس عاملہ آل پاکستان ادارہ تحفظ حقوق شیعہ سرگودھا کا حسب ذیل بیان شائع کیا:- آج کل سرگودھا میں جماعت احمدیہ کی جامع مسجد تعمیر ہونے کے خلاف بعض مفاد پرست لوگ خواہ مخواہ شور پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں افسوس کہ ذمہ دار احباب کیوں اس کے خلاف آواز نہیں اٹھاتے اور ایسے شر پسند عناصر کے ابھرنے میں رکاوٹ پیدا نہیں کرتے۔کسی جماعت کے مسجد تعمیر کرنے میں مخالفت پیدا کرنا اپنے اندر سوائے شرارت کے اور کوئی چیز نہیں رکھتی۔ہم دیکھتے ہیں کہ گزشتہ چند سالوں میں حکومت کی طرف سے عطا کردہ جگہوں اور متعدد بلا منظوری جگہوں پر مساجد تعمیر کر دی گئی ہیں۔سوائے جماعت احمدیہ کے کہ انہوں نے باقاعدہ قانونی طور پر حصول اراضی کی کوشش کر کے اب تعمیر کرنا شروع کی۔حکومت کو چاہیئے کہ بروقت حالات کا صحیح اندازہ کر کے ایسے مفاد پرست عناصر کو ان کی من مانی کارروائی سے روک دیں قبل اس کے کہ ایسے حالات پیدا ہو جا ئیں کہ ملک کا امن تہ و بالا ہو اور غیر ممالک میں ہمارے ملک کی رسوائی ہو۔“