تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 420
تاریخ احمدیت 420 جلد 21 مولوی حبیب الرحمن صاحب نے سالہا سال سے اپنا شیوہ اور معمول بنا رکھا تھا کہ اپنی تقریر میں جب کبھی احمدیت کا ذکر چھیڑتے محمدی بیگم سے متعلقہ پیشگوئی پر ضرور استہزاء کرتے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی شان اقدس میں ” دیوث نبی کے گستاخانہ الفاظ استعمال کرتے تھے۔اب جو مباہلہ کے بعد مخالفت کا محاذ کھلا تو اُن کے کیریکٹر پر بکثرت کتابیں شائع کی گئیں۔جن میں مولوی صاحب کی ایک فاحشہ مہر النساء سے داستان معاشقہ کے واقعات درج تھے اور یہ کتا بیں شائع کرنے والے ان کے ہم عقیدہ اہل سنت و الجماعت حنفی بزرگ تھے جن میں بہار کے کئی علماء کرام بھی شامل تھے۔مولوی صاحب موصوف کی بے آبروئی انتہا تک پہنچ گئی۔لیکن آسمان پر ان کی ذلت ورسوائی کے جو فیصلے ہو چکے تھے ان میں سے ایک اہم فیصلے کی تنفیذ زمین پر ابھی باقی تھی اور وہ یہ کہ ان کے ذمہ کچھ سرکاری لگان باقی تھا جو ایک عرصہ سے وہ ادا نہیں کر رہے تھے۔جس پر سرٹیفکیٹ آفیسر جناب کے۔ایم۔میگراج ڈپٹی کلکٹر و مجسٹریٹ فرسٹ کلاس نے مولوی صاحب کا باڈی وارنٹ جاری کیا اور اس کے تحت وہ حاکم موصوف کے سامنے کورٹ میں حاضر کیے گئے۔عدالت نے حکم دیا کہ ملزم سے روپیہ وصول کیا جائے بصورت دیگر اسے سول جیل میں بھیج دیا جائے۔یہ 5 مارچ 1963 ء کی تاریخ تھی اور یوم مباہلہ (25 مارچ 1962ء) کی طرح منگل ہی کا دن تھا۔مولوی عبد القدوس صاحب مرزا پوری امام مسجد محله شنکر پور بھدرک مولوی حبیب الرحمن صاحب کے چہیتے شاگرد اور منظور نظر ہونے کی وجہ سے بھدرک اور دھام نگر کے معزز تعلیم یافتہ حلقے بالخصوص میاں فیملیز کے لوگ انکو خاص عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور مجالس وعظ میں انہیں خاص اہتمام سے مدعو کیا جاتا تھا۔لیکن مباہلہ کے بعد یہ بھی اپنے استاذ کے ساتھ عوام و خواص کے غیظ وغضب کا نشانہ بنے اور حد درجہ ذلیل وخوار ہوئے اور وہ تمام " القابات جلیلہ اور دشنام طرازی جو مولوی حبیب الرحمن صاحب کے حق میں روا رکھی گئی مولوی عبد القدوس صاحب کو بھی وافر حصہ اس کا دیا گیا بلکہ کئی ایک ٹریکٹ اور اشتہارات تو انہی کو مخاطب کر کے لکھے اور ان میں اسقدر ان کی ذلت و اہانت کی گئی کہ الامان والحفیظ۔ان اشتہارات میں موصوف کے کارٹون بھی شائع کیے گئے ایک کارٹون میں تو یہاں تک بتایا گیا کہ مفتی بھدرک رشوت لیکر فتوی فروشی کرتے ہیں اور شریعت میں حیلہ و بہانہ اور مکر وفریب کو داخل کر کے فتوے لینے والے کو سکھاتا ہے کہ چند دن کے لئے عیسائی بن جاؤ تا کہ شرعی قیود سے آزادی حاصل ہو سکے اور شریعت اسلامیہ کے احکام تم پر جاری نہ ہو سکیں اور پھر اپنا مقصد حاصل ہونے کے بعد تو بہ کر کے مسلمان ہو جاؤ۔مباہلہ سے پہلے مولوی عبد القدوس صاحب کے پیچھے نماز پڑھنے والوں کا ہجوم رہتا تھا مگر مباہلہ