تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 415 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 415

تاریخ احمدیت 415 جلد 21 کھڑے ہوئے۔مولانا بشیر احمد صاحب فاضل انچارج تبلیغ بنگال واڑیسہ نے نہایت ہی بلند مگر رقت آمیز لہجہ میں سورۃ فاتحہ کی تلاوت کی اور حسب ذیل الفاظ میں موکد بعذاب قسم کھائی۔ہم ممبران جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کو ان کے دعوی نبوت میں سچا تسلیم کرتے ہیں اور تسلیم کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں انہوں نے مرتبہ نبوت حاصل کیا۔ہم موکد بعذ اب حلف لے کر کہتے ہیں کہ اگر مرزا غلام احمد صاحب اپنے اس دعوے میں جھوٹے ہیں تو ہم پر خدا تعالیٰ کا عذاب شدید ایک سال کے اندر نازل ہو اور اگر وہ خدا تعالیٰ کے سچے نبی ہیں تو ان لوگوں کو جو اس وقت مقابل پر حلف اٹھا رہے ہیں ایک سال کے اندر عذاب شدید میں مبتلا کر جو دوسروں کے لئے عبرت کا موجب ہو۔آمین۔“ اس دعا کے بعد آپ نے تین دفعہ قرآن شریف کی یہ دعا پڑھی کہ ربـنـا تقبل منا انك انت السميع العلیم اور سب نے آمین کہی اور دعاختم کی۔دعا کے وقت رقت کا عالم طاری تھا اور سب احمد یوں کی آنکھیں خدا کے حضور گریہ وزاری سے پر نم تھیں۔دعائے مباہلہ ختم ہوئی تو مولوی حبیب الرحمن صاحب نے ( جنہیں مباہلین میں شرکت کی جرات نہ ہوسکی تھی) مولانا بشیر احمد صاحب فاضل سے مخاطب ہو کر کہا کہ آپ تو مباہلہ میں شامل ہو گئے۔اس پر مولانا صاحب نے پر شوکت اور پر جلال الفاظ میں فرمایا کہ آپ مباہلین کی فہرست میں نام نہ لکھوانے سے پبلک کو دھوکہ دے سکتے ہیں مگر خدا جانتا ہے کہ آپ ساری کارروائی میں شامل ہیں اس لئے آپ بھی خدا کے عذاب سے نہیں بچ سکتے۔مولوی حبیب الرحمن صاحب خاموش رہے مباہلہ کی مجلس اختتام پذیر ہوئی۔اسوقت پورے مجمع پر سکوت طاری تھا۔10 احمدیوں نے مباہلہ کے پہلے دن سے ہی خاص دعائیں شروع کر دی تھیں مگر جب مباہلہ کی میعاد کا آخری دور قریب آن پہنچا تو وہ پہلے سے بھی زیادہ تضرع اور عاجزی اور خشوع و خضوع کے ساتھ انفرادی اور اجتماعی دعاؤں میں لگ گئے علاوہ ازیں مولوی سید فضل الرحمن صاحب صوبائی امیر نے حضرت مصلح موعود اور دیگر بزرگوں کی خدمت میں درخواست دعا کی علاوہ ازیں جماعت بھدرک نے (جس کے صدر ان دنوں سید محمد ذکریا صاحب تھے ) ایک سکیم کے تحت حضرت مصلح موعود، صح به مسیح موعود و بزرگان عظام پاک و ہند اور بیرونی ممالک کے مبلغین اور جماعت کے دوستوں کی خدمت میں دعا کی درخواست بھجوائی۔اکثر جگہوں سے پُر از محبت اور ہمدردانہ خطوط پہنچے کہ دعا جاری ہے اللہ تعالیٰ احمدیت کو بین فتح