تاریخ احمدیت (جلد 21)

by Other Authors

Page 409 of 712

تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 409

تاریخ احمدیت 409 جلد 21 میں دوستوں سے صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ وصیت کی اہمیت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے رسالہ ” الوصیت میں اچھی طرح واضح کر دی ہے۔اس کے بعد میں نے بھی اپنے خطبات اور تقریروں اور تحریروں میں اسکی طرف بار ہا توجہ دلائی ہے مگر جیسا کہ مجھے بتایا گیا ہے اب تک وصیت کرنے والوں کی تعداد قریباً ساڑھے سولہ ہزار تک پہونچی ہے جو جماعت کی موجودہ تعداد کے مقابلہ میں بہت کم ہے۔اگر نظارت بہشتی مقبرہ کثرت سے اس بارہ میں الوصیت اور میری تقریروں اور تحریروں کو شائع کرے تو امید ہے کہ وصایا کی کمی بہت جلد دور ہو جائیگی اور سلسلہ کی مالی حالت بھی پہلے سے زیادہ مضبوط ہو جائے گی کیونکہ اس کی مضبوطی کا وصایا کی زیادتی کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔پس میں اس کے ذریعہ جماعت کے ہر فرد کو جس کا گزارہ ماہوار آمدن یا جائیداد پر ہے نظامِ وصیت میں شامل ہونے کی تحریک کرتا ہوں اور ہر مرکزی اور مقامی جماعت کے عہدیداروں کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ اس طرف خاص طور پر توجہ کریں۔اس غرض کیلئے مناسب ہوگا کہ ہر جماعت میں سیکرٹری وصایا مقرر کیے جائیں جو اس تحریک کو چلاتے رہیں۔اسی طرح امراء اور مربیان سلسلہ کو بھی چاہیے کہ وہ اس تحریک کو زندہ رکھنے کی کوشش کریں۔اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کے ساتھ ہو اور وہ ہمیشہ اسلام اور احمدیت کی اشاعت کے لئے آپ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ قربانیوں کی توفیق عطا فرمائے۔والسلام مجلس مشاورت ربوہ 1962ء خاکسار مرزا محمود احمد 37 "21-02-1962 اس سال جماعت احمدیہ کی تینتالیسویں مجلس مشاورت 23 تا 25 امان 1341 ھش مطابق 23 تا 25 مارچ 1962 تعلیم الاسلام کا لج ربوہ کے وسیع ہال میں منعقد ہوئی۔سید نا حضرت مصلح موعود کی طبیعت ناساز تھی اس لئے حضور کے ارشاد پر صدارت کے فرائض حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے انجام دیئے۔حضور کی طویل علالت کا دردناک احساس مجلس کے پورے ماحول پر حاوی تھا تا ہم حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی غیر معمولی فراست اور بیش قیمت راہنمائی کے باعث اس پُر وقار مجلس کا معیار خاصا بلند رہا اور ایک نئی زندگی اور بیداری بھی محسوس کی جاتی رہی۔آپ نے ممبران کو ابتدا ہی میں یہ تا کیدی ہدایت فرما دی کہ