تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 389
تاریخ احمدیت 389 جلد 21 تبدیلی واقع ہوگئی اور آپ کمال ذوق اور ولولہ جوش کے ساتھ مطالعہ قرآن میں منہمک ہو گئے۔پہلے پنجوقتہ نمازوں میں بے قاعدہ تھے اب پورے التزام سے تہجد اور نوافل بھی پڑھنے لگے۔تجارت میں ہر قسم کے ناجائز طریقے موقوف کر دیئے اور سالانہ زکوۃ کی ادائیگی شروع کر دی اور مع اہل وعیال حج بیت اللہ کا بھی شرف حاصل کیا۔اس کتاب کے ذریعہ آپ کو یہ عجیب بات بھی معلوم ہوئی کہ اللہ تعالیٰ دعاسنتا اور جواب بھی دیتا ہے۔اس امر کی تحقیق کیلئے آپ نے اللہ تعالیٰ کے حضور بعض دعائیں کیں جس کے جواب میں آپ کو ایسی واضح خوا میں دکھلائی گئیں کہ آپ یقین محکم پر قائم ہو گئے کہ خدا تو یقینا مستجیب الدعوات ہے۔ان روحانی تجربات و مشاہدات کے باوجود آپ کی توجہ احمدیت کی طرف نہ ہوئی جسکی وجہ یہ تھی کہ ایک اہلحدیث شخص کی مصاحبت سے آپ کٹر اہلحدیث ہو گئے تھے۔1914ء میں حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کسی کام کے لئے سکندر آباد تشریف لے گئے اور آپ پر ہر پہلو سے صداقت احمدیت واضح کی۔قادیان سے بہت سی کتابیں بھی منگوا دیں مگر آپ قبول احمدیت پر قطعاً آمادہ نہ ہوئے۔جون 1914ء میں خلیفہ امسیح الثانی نے اعلیٰ حضرت نظام دکن کیلئے ” تحفتہ الملوک، تصنیف فرمائی اور اس کو پہنچانے اور مختلف حلقوں میں تقسیم کرنے کیلئے سب سے پہلے حضرت حکیم محمد حسین صاحب قریشی ( موجد مفرح عنبری لاہور ) اور پھر حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب اور حضرت مفتی محمد صادق صاحب کو بھیجا گیا لیکن حضرت سیٹھ صاحب کو اس وفد کا علم نہ ہوسکا۔ازاں بعد حضرت مفتی صاحب اور حضرت حافظ روشن علی صاحب حضور کے حکم پر حیدر آباد تشریف لے گئے۔تو حضرت سیٹھ صاحب اُن کے لیکچر میں شامل ہوئے جن کے سننے کے بعد آپ نے اپنے مکان الہ دین بلڈنگ میں انکی تقریریں کرائیں اور درس قرآن بھی جاری کرایا۔یہ دونوں بزرگ دو تین ماہ تک روزانہ اُن کے پاس سکندر آباد تشریف لے جاتے اور تبلیغ کرتے رہے۔مخالف علماء کو بھی اعتراضات کرنے کا کھلا موقعہ ملا۔فریقین کے دلائل سننے اور موازنہ کرنے کے بعد آپ کو حضرت مسیح موعود کی صداقت پر کامل یقین ہو گیا۔اس اثنا میں جبکہ آپ تحقیقات کر رہے تھے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے آپ کے لئے دعا کی تو خواب میں دیکھا کہ ”آپ ایک بڑی عمارت میں بیٹھے ہیں جس کے بیچ میں ایک بہت بڑا مگن ہے ایک تخت اس میں بچھا ہے اور آپ اس پر بیٹھے ہوئے ہیں اور آسمان سے خدا تعالیٰ کے فضل کی بارش بہ شکل نور ہورہی ہے اور آپ پر گر رہی ہے، حضور کو یقین ہو گیا کہ آپ سلسلہ میں داخل ہو کر سلسلہ کیلئے بہت مفید وجود ثابت ہوں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔