تاریخ احمدیت (جلد 21) — Page 388
تاریخ احمدیت 388 پانچواں باب (فصل اول) خلافت ثانیہ کا اڑتالیسواں سال ( جنوری 1962 ء ا صلح 1341 ھش تا دسمبر 1962 ء افتح 1341 هش) حضرت سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب کا وصال سوانح جلد 21 سلسلہ احمدیہ کے بے مثال فدائی نہایت مخیر اور شہرہ آفاق بزرگ حضرت سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب کی پیدائش 12 اکتوبر 1877ء کو بمبئی میں ہوئی آپ کے والد ماجد اللہ دین صاحب ولد ماؤجی سر آغا خاں کے معتقد اور اسماعیلی خوجہ قوم کے چشم و چراغ تھے۔جو 1882ء میں بغرض تجارت بمبئی سے حیدر آباد دکن کے شہر سکندر آباد میں آگئے اور یہیں بودوباش اختیار کر لی۔1903ء میں آپ کی شادی حضرت سکینہ بانو صاحبہ سے ہوئی۔1904ء میں آپ کے والد انتقال کر گئے۔اسوقت آپ کی عمر ستائیس سال اور ( خان بہادر) سیٹھ احمد الہ دین صاحب کی انیس سال تھی اور دوسرے دو بھائی بچے ہی تھے اور اڑھائی ہزار کے بیمہ کے سوا کوئی سرمایہ نہ تھا اور تجارت کی حالت بھی اچھی نہ تھی مگر اللہ تعالیٰ نے جو تمام برکات کا منبع ہے اسی تجارت میں ایسی برکت دی کہ پہلے ہی سال اس سے ہزار ہاروپیہ نفع ہونے لگاھتی کہ چند سالوں میں سرمایہ لاکھوں تک پہنچ گیا۔1913ء میں پہلی بار آپ نے قادیان کا نام سنا۔جبکہ مینجر رسالہ ریویو آف ریلیجنز (انگریزی) کی طرف سے یہ رسالہ آپ کی فرم کے نام اشتہار حاصل کرنے کیلئے موصول ہوا۔مذہب سے دلچپسی نہ ہونے کے باعث یہ رسالہ کئی روز تک آپ کی میز پر پڑا رہا۔ایک دن آپ کی نظر اس کے آخری صفحہ پر پڑی جسمیں ٹیچنگز آف اسلام (اسلامی اصول کی فلاسفی ) کا اشتہار تھا۔آپ نے کتاب منگوائی اور اس کا نہایت دلچسپی سے مطالعہ کیا۔اس کتاب کا آپ پر ایسا فوری اثر ہوا کہ گویا آپ ظلمت سے نکل کر نور میں آگئے آپ نے اسکی متعد د جلد میں مسلم اور غیر مسلم افراد میں تحفہ تقسیم کیں۔آغا خانی خیالات کے زیر اثر آپ سمجھتے تھے کہ قرآن عربوں کے لئے تھا ہمیں اس کی ضرورت نہیں اس لئے قرآن مجید پڑھنا بھی چھوڑ چکے تھے مگر اس کتاب کے پڑھنے سے آپ کے اندر زبردست